ہماری مسجد کے جو امام ہیں وہ اشاعت التوحید والسنہ سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ اُن کا ایک بیٹا حافظ قران ہے جو ڈارھی بالکل چھوٹی کرکے کٹواٹا ہے، ہمارے محلہ میں امام صاحب کے علاوہ ایک مفتی صاحب اور ایک مولانا صاحب ہیں، جو صحیح العقیدہ ہیں اور دیوبندیت سے تعلق رکھتے ہیں۔
مولانا صاحب کا کہنا ہےکہ امام صاحب اشاعت التوحید والسنہ سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ اُن کا عقیدہ درست نہیں ہے، حضرات مفتیان کرام کا فتویٰ ہےکہ اشاعت التوحید والسنہ والے ضال ومضل اور بدعتی ہیں، اِن کی امامت میں نمازیں پڑھنا درست نہیں ہے، جبکہ امام صاحب کی غیر موجودگی میں اُن کا بیٹا حافظ قران جو ڈارھی کٹواٹا ہے، نمازوں کی امامت کرتا ہے، مولانا صاحب کے بقول یہ بھی فاسق و فاجر ہونے کی وجہ سے امامت کا اہل نہیں ہے، جبکہ مفتی صاحب کا کہنا ہےکہ۔۔۔ شامی کا ایک قول ہےکہ اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ فاسق و فاجر کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے، لہذا دونوں باپ بیٹے کی امامت میں نمازیں درست ہیں۔ جبکہ مولانا صاحب کا کہنا ہےکہ یہ وقتی طور پر کبھی کبھار کیلئے ہے، مستقل طور پر فاسق و فاجر کے پیچھے امامت جائز نہیں ہے۔
اب برائے مہربانی اِن حالات میں آپ ہماری قرآن و سنت کی روشنی میں بہترین راہ نمائی فرمائیں، اہل محلہ اور عام نمازیوں کیلئے کیا حکم ہے؟ وہ اِس صورت حال میں کیا کریں؟
صحیح العقیدہ، صالح اور متقی شخص کو مسجد کا امام بنانا چاہئے ،اپنے اختیار سے کسی فاسد العقیدہ یا فاسق کو امام بنانا جائز نہیں؛ لہذا مسجد انتظامیہ اور با اختیار افراد پر لازم ہے کہ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے منحرف یا ڈاڑھی کٹوا کر ایک مشت سے کم کروانے والے کسی شخص کو امام نہ بنائیں۔ نیز عوام پر بھی لازم ہے کہ صحیح العقیدہ، صالح شخص کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کی حتی الوسع کوشش کریں، البتہ اس معاملہ میں انتشار پھیلانا ہرگز درست نہیں ہے۔ نیز اگر کبھی جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو جماعت سے نماز ادا کرنا تنہا پڑھنے سے بہتر ہے۔
الدر المختار (باب الإمامة)
(ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون» (وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم
(ويكره) تنزيها…. (وفاسق وأعمى) ونحوه الأعشى ….(ومبتدع) أي صاحب بدعة…. وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة
رد المحتار (باب الإمامة)
(قوله ويكره تنزيها إلخ) لقوله في الأصل: إمامة غيرهم أحب إلي بحر عن المجتبى والمعراج، ثم قال: فيكره لهم التقدم؛ ويكره الاقتداء بهم تنزيها؛ فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد… (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» قال في الحلية: ولم يجده المخرجون نعم أخرج الحاكم في مستدركه مرفوعا «إن سركم أن يقبل الله صلاتكم فليؤمكم خياركم، فإنهم وفدكم فيما بينكم وبين ربكم» . اهـ