سورت فاتحہ سے پہلے بھول کر کسی آیت یا سورت کی تلاوت اس قدر کر لی جائے جس سے ایک رکن کی ادائیگی کے بقدر (یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر )تاخیر ہوگئی ہو تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا اور گر رکن کی ادائیگی کے بقدر تاخیر ہونے سے پہلے ہی سورت فاتحہ شروع کردی تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔ واضح رہے کہ یہ حکم فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت کے بارے میں ہے،کیونکہ فرض کی تیسری یا چوتھی رکعت میں فاتحہ کی جگہ بھولےسے سورت یا آیت پڑھ لینے سےسجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔(ماخذہ: فتاوی رحیمیہ(۵۔۱۸۸)دارالاشاعت)
رد المحتار (1/ 460)سعيد
لأن الظاهر أن العلة هي تأخير الابتداء بالفاتحة والتأخير اليسير، وهو ما دون ركن معفو عنه تأمل. ثم رأيت صاحب الحلية أيد ما بحثه شيخه في الفتح من القيد المذكور بما ذكروه من الزيادة على التشهد في القعدة الأولى الموجبة للسهو بسبب تأخير القيام عن محله، وأن غير واحد من المشايخ قدرها بمقدار أداء ركن
البحر الرائق (2/ 166)كويتة
لو بدأ بالسورة ثم تذكر يبدأ بالفاتحة ثم يقرأ السورة ويسجد للسهو وإن قرأ من السورة حرفا كذا في المجتبى وقيده في فتح القدير بأن يكون مقدار ما يتأدى به ركن عن قراءة الفاتحة
الفتاوى الهندية (1/ 140)العلمية
ومن سها عن فاتحة الكتاب في الأولى أو في الثانية وتذكر بعد ما قرأ بعض السورة يعود فيقرأ بالفاتحة ثم بالسورة قال الفقيه أبو الليث: يلزمه سجود السهو وإن كان قرأ حرفا من السورة