بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پیر زندہ نامی گاؤں ضلع مانسہرہ میں جمعہ کا حکم؟

سوال

ہم گاؤں پیرزندہ (تحصیل دربند، ضلع مانسہرہ) کے رہائشی ہیں۔ہمارا گاؤں دربند شہر سے تقریباً 2 سے 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دربند شہر میں باقاعدہ جمعہ کی نماز جامع مسجد میں قائم کی جاتی ہے اور پیرزندہ کے لوگ عام دنوں میں بھی دربند آتے جاتے ہیں (بازار، تعلیم، علاج وغیرہ کے لیے)۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں: کیا گاؤں پیرزندہ کے رہائشیوں پر نمازِ جمعہ فرض ہے؟ اگر کوئی شخص جمعہ نہ پڑھے اوراپنی بستی کی مسجد میں ظہر ادا کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ
ہماری بستی کی اس مسجد میں پنج وقتہ جماعت ہوتی ہے، نمازیوں کی تعداد بھی مناسب ہے۔ کیا ہم اپنی بستی میں شرعی اعتبار سے جمعہ کی نماز خود قائم کر سکتے ہیں؟ یا ہمیں دربند شہر جا کر ہی جمعہ ادا کرنا ہوگا؟
اگر یہاں جمعہ قائم ہوسکتا ہے اور فی الوقت قائم کرنا مشکل یا انتشار کا باعث بن رہا ہو تو ایسی صورت حال میں معتکف کے لیے کیا حکم ہوگا کہ اس کا جمعہ کی نمازکے لیے دربند شہر جانا ضروری ہوگا یا اپنی اس بستی میں ہی ظہر ادا کرے؟
تنقیح
کیا آپ کا گاؤں دربند سے بلا فصل متصل ہے ؟۔ کیا دربند والوں کی ضروریات (جیسے :قبرستان ،عید گاہ اور چراگاہ وغیرہ )آپ کے گاؤں سے وابستہ ہیں ؟نیز آپ کے گاؤں کی آبادی کتنی ہے؟
جوابِ تنقیح
ہمارا الگ مستقل گاؤں ہے ۔ہمارا گاؤں دربند سے دو سے تین کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔درمیان میں کافی جگہ غیر آباد ہے ۔ نیز اہلِ دربند کی کوئی ضرورت و مصلحت ہم سے وابستہ نہیں ۔ہمارے گاؤں میں پچیس سے تیس گھر ہیں ۔

جواب

واضح رہے کہ کسی جگہ نمازِ جمعہ کے لیے اس جگہ کا”قصبہ”،”شہر”یا “فِناءِ شہر” ہونا ضروری ہے اور “فِناءِشہر “وہ آبادی کہلاتی ہے جو شہر سے متصل ہو اور اس سے شہر والوں کی ضروریات (قبرستان ،عید گاہ یا جانوروں کی چراگاہ وغیرہ )وابستہ ہوں ۔نیز قصبہ یا ایسا بڑا گاؤں جس کی آبادی تقریباًچار ہزار یا اس سے زائد ہو،اس میں سڑکیں، کچہری ، ڈاکخانہ،تھانہ،مختلف ناموں سے موسوم محلے اور ایسا بازار جس میں تیس چالیس متصل دکانیں ہوں اور اس بازار میں ضروریاتِ زندگی سے متعلق تمام اشیاء جیسے :کپڑے ،جوتے ،غلہ ،گوشت ،سبزی ،دودھ وغیرہ کی دکانیں ہوں وہاں بھی جمعہ جائز ہے ۔(ماخذہ :امداد الاحکام )
مندرجہ بالا تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ: سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اور تنقیح سے یہ معلوم ہو ا کہ ” پیر زندہ ” تحصیل دربند سے علیحدہ مستقل گاؤں ہے ۔نیز یہ “فِناءِ مصر “میں بھی داخل نہیں؛کیونکہ اہلِ دربند کی ضروریات اس سے وابستہ نہیں ۔لہذا یہاں (پیر زندہ)کے رہائشیوں پر نماز جمعہ فرض نہیں اور نہ ہی ان پر دربند جا کر نمازجمعہ پڑھنا ضروری ہے ۔ یہاں کے مقامی جمعہ کے دن اپنے گاؤں کی مسجد میں نمازِ ظہر باجماعت ادا کریں گے ۔ اگر یہیں اپنے گاؤں میں جمعہ کی نماز پڑھی تو ظہر کی نماز بدستور ذمہ میں باقی رہے گی۔ نیز معتکف کا بھی یہی حکم ہے اس پر نمازِ جمعہ فرض نہیں وہ اپنے گاؤں میں ہی باجماعت نمازِ ظہر ادا کرے ۔دربند جا کر جمعہ ادا کرنے سے اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔
مصنف عبد الرزاق ا (3/ 301)
عن علي قال: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع
فيض الباري (2/ 423)
واعلم أن القرية والمصر من الأشياء العرفية التي لا تكاد تنضبط بحال وإن نص، ولذا ترك الفقهاء تعريف المصر على العرف كما ذكره في «البدائع۔ 
البحر الرائق شرح (2/ 151)
(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي – رضي الله عنه – لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله۔۔
الدر المختار مع حاشیۃابن عابدين(2/137)
 (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح۔
الدر المختار (2/ 138)
و فناؤه بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا  كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي
     بدائع الصنائع (2/ 114)
 لا يخرج المعتكف من معتكفه في الاعتكاف الواجب ليلا ولا ونهارا إلا لما لا بد له منه منالغائط والبول وحضور الجمعة؛ لأن الاعتكاف لما كان لبثا وإقامة؛ فالخروج يضاده ولا بقاء للشيء مع ما يضاده فكان إبطالا له وإبطال العبادة حرام؛ لقوله تعالى {ولا تبطلوا أعمالكم} [محمد: 33] إلا أنا جوزنا له الخروج لحاجة الإنسان إذ لا بد منها وتعذر قضاؤها في المسجد فدعت الضرورة إلى الخروج ولأن في الخروج لهذه الحاجة تحقيق هذه القربة؛ لأنه لا يتمكن المرء من أداء هذه القربة إلا بالبقاء،ز۔۔۔وما كان من وسائل الشيء؛ كان حكمه حكم ذلك الشيء فكان المعتكف في حال خروجه عن المسجد لهذه الحاجة كأنه في المسجد وقد روي عن عائشة – رضي الله عنها – أن النبي – صلى الله عليه وسلم – «كان لا يخرج من معتكفه ليلا ولا نهارا إلا لحاجة الإنسان» وكذا في الخروج في الجمعة ضرورة؛ لأنها فرض عين ولا يمكن إقامتها في كل مسجد فيحتاج إلى الخروج إليها كما يحتاج إلى الخروج لحاجة الإنسان؛ فلم يكن الخروج إليها مبطلا لاعتكافه وهذا عندنا
رد المحتار(2/ 138)
 لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر
کذا فی امداد الاحکام(1/673)دارالعلوم
امداد الفتاویٰ (3/29)نعمانیۃ
ان روایات  سے مفہوم ہوا کہ اگر یہ مقام جس کی نسبت سوال ہے مستقل آبادی شمار کی جاتی ہے تب  تو بوجہ قریہ ہونے کے اس میں جمعہ جائز نہیں  اور اگر مستقل آبادی نہیں  سمجھی جاتی بلکہ شہر سے متعلق قرار دی جاتی ہے اور شہر کے مصالحِ عامہ اس سے متعلق ہوں ۔۔۔تو اس میں جمعہ جائز ہے  ۔
امداد الاحکام(1/671)دارالعلوم
                                     اِس قصبہ  اور گاؤں میں کھیتوں وغیرہ کا فصل ہو اور وہ قصبہ سے جدا سمجھا جاتا ہوتو اس  گاؤں کے باشندوں پر جمعہ فرض نہیں ،گو ایک دو میل کا فصل ہو ۔
فتاویٰ محمودیہ(10/241)فاروقیہ
گاؤں والوں پر نہ جمعہ فرض ہے نہ سنتِ مؤکدہ ۔لہذا اس کو جمعہ کے لیے شہر  میں آنا جانا جائز نہیں۔اگر آئے گا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس