قربانی کی کھالیں فروخت کر کےاس کی رقم سے براہِ ٍراست اساتذہ کرام کو تنخواہ دینا درست نہیں ہے۔ کیونکہ خودقربانی کی کھال فروخت کرنے کی صورت میں اس کی قیمت کو صدقہ کرنا ضروری ہے ، البتہ فروخت کرنے سے پہلے قربانی کی کھالیں صدقہ بھی کر سکتے ہیں اور کسی کو ہدیہ کے طور پر دینےکی بھی اجازت ہے ،تاہم اس ذریعہ سےاساتذہ کرام کو تنخواہیں دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھال پہلے مسجد کی انتظامیہ کو عطیتاً دیدی جائے اور پھر وہ بیچ کر اس سے اساتذہ کرام کو تنخواہ دیدیں۔
الفتاوى الهندية (6/ 443) دارالکتب العلمیة
أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة وكل حيلة يحتال بها الرجل ليتخلص بها عن حرام أو ليتوصل بها إلى حلال فهي حسنة
الفتاوى الهندية (5/ 372)دارالکتب العلمیہ
ولا أن يعطي أجر الجزار والذابح منها
خلاصة الفتاوی (4/ 321) رشیدیہ
ویجوز الانتفاع بجلد الاضحیة والهدي والمتعة بان يتخذه فروااوبساطااو جرابا او غربالا وله ان يشتري به متاع البيت كالغربال والجراب… ولا باس ببيعه بالدراهم ليتصدقها وليس له ان يبيعه بالدراهم لينفقها علی نفسه ولو فعل ذالك يتصدق بثمنه