بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کا حکم

سوال

آفاقی جہاز میں سو گیا اور جدہ پہنچ کر آنکھ کھلی ، تب اس نے بنیتِ احرام تلبیہ پڑھا، اب اس پر دم لازم ہے یا جدہ بوجہ محاذات میقات ہونے کے احرام درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور اگر احرام کی نیت سے تلبیہ پڑھے بغیر بذریعہ ہوائی جہاز جدہ ائیرپورٹ پہنچ گیا تو بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کی وجہ سے اس پر دم واجب ہوگیا ، اب اگر وہ وہیں سے حرم شریف چلا جاتا ہے تو اسے دم ادا کرنا پڑے گا، لیکن اگر وہ شخص دوبارہ واپس میقات سے باہر آکر احرام کی نیت سے تلبیہ پڑھ لے اور پھر میقات سے گز ر کر عمرہ یا حج ادا کرے تو اس سے دم ساقط ہو جائے گا۔
الفتاوى الهندية (1/ 245)العلمية
ولا يجوز للآفاقي أن يدخل مكة بغير إحرام نوى النسك أو لا ولو دخلها فعليه حجة أو عمرة كذا في محيط السرخسي في باب دخول مكة بغير إحرام
الدر المختار (2/ 579)سعيد
(آفاقي) مسلم بالغ (يريد الحج) ولو نفلا (أو العمرة)… (وجاوز وقته) … (ثم أحرم لزمه دم؛ كما إذا لم يحرم، فإن عاد) إلى ميقات ما (ثم أحرم أو)… (سقط دمه) والأفضل عوده إلا إذا خاف فوت الحج
رد المحتار (2/ 579)سعيد
 فإن كل من لم يحرم من ميقاته المعين له لزمه دم ما لم يعد إليه سواء كان حرميا أم بستانيا أم آفاقيا… فالمراد بقوله إذا أراد الحج أو العمرة إذا أراد مكة.  ملخصا من ح عن الشرنبلالية، وليس المراد بمكة خصوصها، بل قصد الحرم مطلقا موجب للإحرام كما مر قبيل فصل الإحرام، وصرح به في الفتح وغيره
الدر المختار (2/ 476)سعيد
(وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام
 امداد الفتاوی(331/4) نعمانیہ

“اس روایت سے معلوم ہوا کہ اس شخص کا حج ہو جاوے گا مگر دم لازم ہوگا”

فتاوی محمودیہ(381/10) فاروقيہ

جو آفاقی مکہ یا حرم کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے لیے میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں،خواہ اس کا حج عمرہ کا ارادہ ہو، خواہ سیر، تجارت وغیرہ کا ارادی ہو، اگر گزر جائے تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ کسی میقات پر جا کر احرام باندھے ورنہ اس پر دم واجب ہو گا۔

جواہر الفقہ(39/4) مكتبہ دار العلوم کراچی

جدہ سے احرام باندھنے کا مسئلہ: یہ بات اوپر واضح ہو چکی ہے کہ ہوائی جہاز کے ذریعہ خشکی کے اوپر سے جدہ پہنچنے کے لیے میقات قرن المنازل اور میقات ذات عرق کے اوپر سے گذرنا ہوتا ہے اس لیے ہوائی جہاز کے مسافروں کو بلا احرام جانا جائز نہیں۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس