بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حساس طبیعت کی وجہ سے فرض حج کی ادئیگی میں تاخیر یا حجِ بدل کی وصیت

سوال

اگر کسی پر حج فرض ہو لیکن حساس طبیعت کی وجہ سے نہیں کرتا ۔کیونکہ رش دیکھ کر طبیعت بگڑ جاتی ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

رش (بھیڑ) اور مجمع کی وجہ سے طبیعت ناقابل برداشت حد تک خراب ہونے کی صورت میں آپ وقتی طور پر حج موخر کر سکتے ہیں اور اس دوران کسی ماہر طبیب سے علاج کروائیں پھر جب افاقہ اور صحتیابی محسوس ہو، اس وقت خود حج کر یں لیکن اگر طبیعت ٹھیک نہ ہو اور خود حج کرنے سے بالکل مایوسی ہو جائے تو حج بدل کی وصیت کرنا ضروری ہوگا کیونکہ حج بدل کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود حج کرنے پر کسی طرح بھی قادر نہ ہو ں اور نہ ہی مستقبل میں حج کرنے کی امید ہو۔
فی الدر المختار  (2/ 598)
(تقبل النيابة عند العجز فقط) لكن (بشرط دوام العجز إلى الموت) لأنه فرض العمر حتى تلزم الإعادة بزوال العذر
فی رد المحتار تحتہ
(قوله لأنه فرض العمر) تعليل لاشتراط دوام العجز إلى الموت أي فيعتبر فيه عجز مستوعب لبقية العمر ليقع به اليأس عن الأداء بالبدن
(فتویٰ دارالعلوم دیو بند :  سوال نمبر 57979)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس