بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ضلع تورغر ، گاؤں پیتاؤ اشاڑے میں جمعہ وعیدین پڑھنے سے متعلق

سوال

گاؤں پیتاؤ اشاڑےجوضلع تورغر میں واقع ہےمذکورہ گاؤں میں جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھائی جاتی ہیں اور لوگ پڑھتے ہیں گاؤں 260گھروں پر مشتمل ہےلوگوں کی تعدادتقریب1500 سے2000تک ہوگی اورسات دکانیں،دومیڈیکل سٹورڈاکٹروں کے ساتھ دودرزی ایک سرکاری اسکول ہے اور سڑک بھی گاؤں تک پہنچ چکی ہے جس پر گاڑیاں آتی جاتی ہیں ،پوچھنایہ ہےکہ: (1) مذکورہ گاؤں میں نمازِجمعہ وعیدین پڑھناجائز ہے یانہیں ؟ (2)اگرجائزنہیں توظہرکی نمازذمہ باقی ہوگی یانہیں؟ (3)عدمِ جواز کی صورت میں اگر کوئی جمعہ کے بجائےاپنی ظہر اداکرتے رہے تویہ درست ہے یانہیں؟ (4)عدمِ جواز کی صورت میں کسی طالب علم کے لئے یہ جائز ہے کہ کسی عام آدمی کو جمعہ کی نماز سے منع کرے؟ نیزاسی صورت میں عیدکی نماز میں شریک ہوناچاہئے یانہیں؟ (5)اس بات کی تحقیق چاہئے کہ سناہے کہ ایک مرتبہ جب جمعہ کی نماز شروع ہوجائے اگرچہ جائز نہ ہواس نماز کوچھوڑدینا جائز نہیں ہے؟

جواب

نمبر۱،۲۔ واضح رہے کہ جمعہ وعیدین کےلئےشہر،قصبہ یابڑاگاؤں ہوناشرط ہے اور بڑاگاؤںوہ ہےجواپنی آبادی اورضروریات ِزندگی وغیرہ کے لحاظ سےشہر کی مانند ہواوراس کی مردم شماری کم ازکم ڈھائی ہزارسے تین ہزارہو لہٰذا جوگاؤںمندرجہ بالااوصاف کاحامل ہے تووہاں نمازِجمعہ وعیدین پڑھنادرست ہوگااورجس گاؤں میں یہ شرائط مفقود ہو ں تووہاں جمعہ پڑھنے سے ظہرکافریضہ ادا نہیں ہوگابلکہ وہ نفل نماز ہوگی۔
نمبر۳۔ایسی جگہ ظہر کی نمازاداکرنادرست ہے۔
نمبر۴۔خود جمعہ اور عید نہ پڑھے اور مسئلہ محبت اور نرمی سےسمجھاتارہے۔
نمبر۵۔یہ بات درست نہیں البتہ اگر کسی جگہ جمعہ کی نمازشروع کردی گئی ہو اورچھوڑنے کی صورت میں خلفشارکااندیشہ ہوتوکسی مجازافسرکی اجازت سے جاری رکھ سکتےہیں اور جس افسر سے اجازت لی ہےاس کی معزولی یاوفات کی صورت میں نئے افسر سے اجازت لینی پڑےگی۔
الفتاوى التاتارخانية(2/122)دارالأحياء التراث العربي
وروي عن أبي حنيفة:وهوبلدة كبيرة فيهاسكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على انصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أوعلم غيره ويرجع الناس إليه فيماوقع لهم من الحوادث وهذا هوالأصح
البحر الرائق (2/ 245)رشيدية
 وهو كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود) أي حد المصر المذكور هو ظاهر المذهب كما ذكره الإمام السرخسي زاد في الخلاصة ويشترط المفتي إذا لم يكن القاضي أو الوالي مفتيا وأسقط في الظهيرية الأمير فقال المصر في ظاهر الرواية أن يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى اهـ
(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي – رضي الله عنه – لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما
فتاوى النابلسي(2/679)حقانية
من شروط أدائها زيادة على شروط الصلاة:المصرأوفناءه،فلاتصح في القرى عندنا،قال صاحب في تفسير المصر:إنه الموضع الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود،وقيل:المراد من يقدرعلى ذلك كمافي التحفة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس