بريلوی حضرات کے عقائد عام طور پرمشرکانہ نہیں ہوتے کیونکہ جن عقائد میں وہ اہلِ سنت والجماعت سے ہٹے ہوئے ہیں ان میں وہ تاویل کرتے ہیں اوربالکل اللہ تعالیٰ کی طرح حضورﷺکوہرجگہ حاضر ناظر،مختار کل اور عالم الغیب نہیں مانتے بلکہ ذاتی اور عطائی کا فرق کرتے ہیں اس لئے علماء نے انہیں کافرنہیں کہاہے بلکہ وہ بدعتی اور فاسق ہیں(ملاحظہ فرمائیں فتاوی دارالعلوم دیوبند “امداد المفتین” مفتی محمد شفیع(1362ھ)(ص:۱۳۸)دار الاشاعت اورفتاوی دارالعلوم کراچی”امداد السائلین” (2/۲۴۱)ادارۃ المعارف کراچی) انہیں اپنے اختیار سے امام بنانا مکروہ ِ تحریمی اور ناجائز ہے، اور بااختیار آدمی پر بدعتی امام کوامامت سے ہٹانالازم ہے، البتہ اگر اسے امام بنانے یاامامت سے ہٹانے میں کوئی اختیاریا عمل دخل نہ ہواور کسی صالح اور صحیح العقیدہ امام کے پیچھے دوسری جماعت بھی بہ آسانی میسر نہ ہوتو تنہانماز پڑھنے کے مقابلے میں بریلوی امام کے پیچھے ہی نماز پڑھناافضل ہے۔
اسی طرح غیر مقلد امام كے بارے میں یقین یاظن غالب سے معلوم ہوکہ وہ حنفی مذہب کے مطابق نمازكے ارکان وشرائط کی رعایت کرتاہے تو اس کی اقتداء میں نمازاداکرنا درست ہے اوراگر یقین یاظن غالب ہو کہ وہ حنفی مذہب کے مطابق پاکی ناپاکی کےمسائل کا خیال نہیں رکھتا، مثلاً خون نکل کر بہہ جانے کی صورت میں نماز کے لئے وضو نہیں کرتا، اسی طرح نیلون کی جرابوں پر مسح کرتا ہےاس کے پیچھے نماز ادا نہیں ہوتی ،اورجس كے بارے میں شک ہواس کی اقتداء مکروہ ہے البتہ مجبوری کی صورت میں (جہاں قریب میں دوسری جماعت میسر نہ ہو)تنہا نماز پڑھنےکی بجائے جماعت کی فضيلت حاصل کرنے کے لئے اس صورت میں مذکور امام (جس كے بارے میں شک ہو)کی اقتدا میں نمازپڑھ لینا بہتر ہے ۔