البحر الرائق(2/ 183)رشيديه
(قوله وإن قعد في الرابعة ثم قام عاد وسلم)
وقال تحته: (قوله وإن سجد للخامسة تم فرضه وضم إليه سادسة) أي لم يفسد فرضه بسجوده كما فسد فيما إذا لم يقعد…… وإنما لم يفسد لأن الباقي أصابه لفظ السلام وهي واجبة وإنما يضم إليها أخرى لتصير الركعتان له نفلا للنهي عن الركعة الواحدة
الدر المختار و (2/667تا668)رشيديه
(وإن قعد في الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم) ولو سلم قائما صح؛ ثم الأصح أن القوم ينتظرونه، فإن عاد تبعوه (وإن سجد للخامسة سلموا) لأنه تم فرضه، إذ لم يبق عليه إلا السلام (وضم إليها سادسة) لو في العصر، وخامسة في المغرب: ورابعة في الفجر به يفتى (لتصير الركعتان له نفلا)وسجد للسهو
البناية:)2(743/رشيديه
قال:وألغى الخامسة لأنه رجع إلى شيئ محلة قبله فيرتفض وسجد للسهولأنه أخرواجباً
احسن الفتاوی( 2/37)اشاعت اسلام
“اگر چوتھی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو بیٹھ کرسجدہ سہو کرکے نماز پوری کرلے،اوراتر اگر چوتھی رکعت کا سجد ہ کرلیا ہو توپانچویں کا ملانا مستحب ہے آخری دو رکعات نفل ہوجائیں گی سجدہ سہو اس صورت میں بھی واجب ہے”۔
2۔جن مقتدیوں نے مغرب کی چوتھی رکعت میں امام کی اتباع کی ہےوہ اگرمسبوق تھے (یعنی ان کی کچھ رکعتیں باقی تھی تو ان کی نماز فا سد ہوجائے گی،ان پر لازم ہے کہ نماز دوبارہ اداکریں۔اور امام کو بھی چاہئے کہ نماز کے بعد لوگوں کو بتادے۔البتہ جو حضرات مسبوق نہیں تھےان کی نماز ادا ہوگئ ۔نیز جو حضرات چوتھی رکعت میں امام کے ساتھ آکر شامل ہوے ہیں ان کی نماز ادا نہیں ہوئ۔