بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پلاسٹک کی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

نماز پڑھنے کے لیے زیادہ تر مساجد میں پلاسٹک کی ٹوپیاں رکھی ہوتی ہیں۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں، آیا ان جیسی ٹوپیوں کو مسجد میں رکھنا کیسا ہے۔

جواب

پلاسٹک کی ٹوپی پہن کر نماز پڑھناشرعاً ناپسندیدہ ہے۔اس لیے ایسی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔نیز مساجد میں ایسی ٹوپیاں نہیں رکھنی چاہیے۔
قال الله تعالى:[ الاعراف:31]
{يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ}
الدر المختار (1/ 640) دار الفكر
(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة
رد المحتار (1/ 641) دار الفكر
بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية
الفتاوى الهندية (1/ 107) دار الفكر
وتكره الصلاة في ثياب البذلة. كذا في معراج الدراية
فتاوی قاسمیہ(7/363)دار الاشاعت

نمازی بحالت نماز اللہ تعالی سے سرگوشی کرتا ہے اور اللہ کے دربار میں ایسے لباس میں حاضر  ہونا ممنوع ہے۔ جس لباس کع پہن کر معزز مجمع یا مجلس میں حاضر ہونے  میں نا گواری ہوتی ہو اور چٹائی کی ٹوپی پہن کر معزز مجمع اور تقریب میں جانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیے ایسی  ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔  نیز پلاسٹک کی ٹوپی سے نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس