بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تبلیغی جماعت کی تشکیل ایسی بستیوںودیہاتوں میں ہو جن کے درمیان تین ،چار کلومیٹر کا فاصلہ ہے ، قصر واتمام کا حکم

سوال

تبلیغی جماعت کی تشکیل اگر مختلف بستیوں اور دیہاتوں میں ہو جو مستقل سمجھے جاتے ہواور ہر دیہات میں دو،دو،تین، تین دن کی تشکیل ہو لیکن وہ دیہات بہت دور نہ ہو اور ان کے درمیان کا فاصلہ تین چار کلومیٹر ہو تو کیا تب بھی وہ قصر کریں گے؟

جواب

صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعتاً بستیوں کی آبادی آپس میں ملی ہوئی نہ ہو بلکہ ہر بستی مستقل اور علیحدہ ہو اور ان کے درمیان سوال میں ذکر کردہ فاصلہ ہو تو ہر بستی علیحدہ موضع شمار ہو گی اور ہر بستی میں اگر جماعت کا قیام پندرہ دن سے کم ہو تو وہ وہاں مسافر ہوں گے اور قصر نماز ادا کریں گے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 125) دار الفكر
(فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر (أو) نوى (فيه لكن في غير صالح) أو كنحو جزيرة أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى) فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته لأنه يخرج إلى منى وعرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها (قوله بموضعين مستقلين) لا فرق بين المصرين والقريتين والمصر والقرية بحر۔
الفتاوى الهندية (1/ 140) دار الفكر
ولو نوى الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان كل منهما أصلا بنفسه نحو مكة ومنى والكوفة والحيرة لا يصير مقيما۔
فتاوي التاتارخانية(2\499)فاروقیۃ
فان نوى المسافر الإقامة في موطنين خمسة عشر يوما نحو مكة و منى أو الكوفة و الحيرة لم يصر مقيما، وفي الخانية: وان لم يكن بينهما ميسرة سفر؛ لأنه لم ينو الإقامة في أحدهما خمسة عشر يوما۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس