بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سنتوں کو فرضوں سے پہلے پڑھنے کاحکم

سوال

اگر کوئی شخص نماز کی رکعات کی ترتیب جان بوجھ کر بدل کر پڑھے مثلا عشاء کے فرضوں کے بعد کی دو سنتیں فرضوں سے قبل پڑھ دے یا وتر کے بعد پڑھے اسی طرح ظہر کی دو سنتیں فرضوں سے قبل پڑھ دے توکیا اس سے وہ سنتیں ادا ہوگئیں یا کہ ترتیب شرط ہے؟

جواب

جو سنتیں فرائض کے بعد پڑھی جاتی ہیں وہ فرائض سے پہلے پڑھنے سے ادا نہ ہوں گی کیوں کہ وہ فرائض کے تابع ہیں، ان کو فرائض کے بعد پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ فرائض میں جو نقصان ہوا ہو اس کی تلافی ہو سکے، اگر پہلے پڑھیں گے تو مقصد فوت ہو جائے گا۔نیز عشا کے بعد والی دو سنتیں وتروں کے بعد پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے۔
بدائع الصنائع (1/ 271)دار الكتب العلمية
أما قولهم: إنه لا وقت لها فليس كذلك بل لها وقت وهو وقت العشاء إلا أن تقديم العشاء عليها شرط عند التذكر، وذا لا يدل على التبعية كتقديم كل فرض على ما يعقبه من الفرائض۔
رد المحتار (2/ 13) دار الفكر
(وركعتان قبل الصبح وبعد الظهر والمغرب والعشاء) شرعت البعدية لجبر النقصان۔
صحيح البخاري (2/ 25) دار طوق النجاة
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا» ۔
الهداية (1/ 74)دار احياء التراث العربي
اذا صلى العشاء ثم توضأوصلى السنة والوتر ثم تبين أنه صلى العشاء بغير طهارة فعنده يعيد العشاء والسنة دون الوتر لأن الوتر فرض على حدة عنده وعندهما يعيد الوتر أيضا لكونه تبعا للعشاء والله أعلم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس