مذکورہ مسئلہ کے حکم سے پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ سنّتوں کو فرض نماز سے پہلے ہی پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن اگر فرض نماز باجماعت شروع ہو چکی ہے تو پھر حکم یہ ہے کہ اگر فرض نماز کے تشہد ملنے کا امکان ہو تو جماعت کی جگہ سے ہٹ کر پہلے سنّتوں کو اداکرے اس کے بعد جماعت میں شریک ہو اور اگر تشہد کے ملنے کا امکان نہیں ہے تو پھر جماعت میں شریک ہو جائے اور سنّتیں طلوع شمس کے بعد ادا کرے ،طلوع شمس سے پہلے ادا کرنا درست نہیں ،مصروفیت کی وجہ سے بھی طلوع آفتاب کے بعدہی ادا کرے ، طلوع آفتاب سے پہلے ادا نہ کرے اور اگر طلوعِ آفتاب کے بعد کسی وجہ سے ادا نہ کر سکا یہاں تک کہ زوال ہوگیا تو اب سنّتوں کی کوئی قضاءنہیں ۔
رد المحتار(2/15 )ایچ ایم سعید
أَمَّا إذَا فَاتَتْ وَحْدَهَا فَلَا تُقْضَى، وَلَا تُقْضَى قَبْلَ الطُّلُوعِ وَلَا بَعْدَ الزَّوَالِ وَلَوْ تَبَعًا عَلَى الصَّحِيحِ
رد المحتار) 2/ 57
وَأَمَّا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَكَذَلِكَ عِنْدَهُمَا. وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَحَبُّ إلَيَّ أَنْ يَقْضِيَهَا إلَى الزَّوَالِ كَمَا فِي الدُّرَرِ. قِيلَ هَذَا قَرِيبٌ مِنْ الِاتِّفَاقِ لِأَنَّ قَوْلَهُ أَحَبُّ إلَيَّ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ لَوْ لَمْ يَفْعَلْ لَا لَوْمَ عَلَيْهِ. وَقَالَا: لَا يَقْضِي، وَإِنْ قَضَى فَلَا بَأْسَ بِهِ
رد المحتار 2/57
إذَا فَاتَتْ مَعَ الْفَجْرِ فَيَقْضِيهَا تَبَعًا لِقَضَائِهِ لَوْ قَبْلَ الزَّوَالِ
المحیط البرهانى(2/234 ) فتاوٰی تاتارخانیہ(2/302 )مکتبہ فاروقیہ
اتفق أصحابنا على أن ركعتي الفجر إذا فاتتا وحدها، بأن جاءرجل ووجد الإمام في صلاة الفجر، فدخل مع الإمام في صلاته، ولم يشتغل بركعتي الفجر أنها لا تقضى قبل طلوع الشمس، وإذا ارتفعت الشمس لا تقضى قياساً، وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف، وتقضى استحساناً إلى وقت الزوال، وهو (قول) محمد وإذا فاتتا مع الفرض تقضى مع الفرض إلى وقت الزوال وإذا زالت الشمس، يُقضى الفرض، ولا تقضى السنّة۔