بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نماز میں چکر آنےیا بے ہوش ہو نے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

عرض ہے کہ دوران نماز کسی کو چکر آجائیں یا بیہوش ہو جائے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہوگا؟نیزاگر کچھ ہی دیر میں ہوش آجائے تو کیا حکم ہوگا ؟

جواب

نمازکےدوران محض چکرآنےسےنمازفاسدنہیں ہوگی بلکہ کھڑے ہوکریا بیٹھ کریالیٹ کراشارےسےجس طرح ممکن ہونمازمکمل کرلینی چاہیے ،البتہ اگر بے ہوش ہوجائے تونماز فاسد ہوجائے گی چاہے تھوڑی دیر ہی کیوں نہ ہو، ہوش میں آنےکےبعددوبارہ وضوکرکےاس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے-
الدرالمختار­­­(2ٍ/681۔۔۔۔۔2/689) مکتبہ رشیدیہ
(لمرض قبلھااوفیھا)ای الفریضۃ (اودوران الرئسہ،او وجدلقیامہ الماشدیداً)۔۔۔۔۔۔۔۔(ولوعرض لہ مرض فی صلاتہ یتم بما عقد)علی المعتمد۔۔
ردالمحتار(2/689)مکتبہ رشیدیہ 
 (یتم بما قدر )ای:ولوقعداًمومئاًاومستلقیاً۔قولہ (علی المعتمد)وعن الامام انہ یستقبل؛لان تحریمتہ انعقدت موجبۃلرکوع والسجود،فلاتجوزبالایماء۔قال فی النھر:والصحیح المشھور ھوالاول؛لان بناءالضعیف علی القوی اولی من الاتیان بالکل ضعیفاً۔۔
الھندیہ (1/104)مکتبہ رشیدیہ
اذااغمیہ فی صلاتہ او جن او قھقھۃ یتوضا ویستقبل الصلاۃ۔
بائع الصنائع (2/ 517) مکتبہ علمیہ
وکذا اذا اجن فی الصلاۃ او اغمی علیہ ثم افاق لا یبنی۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس