بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امامِ مسجد پر کسی کو مرزائی کہنے کا الزام لگا کر امامت سے معزول کرنا

سوال

ایک شخص عرصہ تقریباً دس سال سے امامت و تدریس کے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور الحمدللہ صحیح العقیدہ سنی مسلمان ہے ۔کبھی ایسا کوئی عقیدہ یا مسئلہ جو عقائدِ اہلسنت کے متضاد ہو نہ کبھی بیان کیا ہے اور نہ اُس عقیدے سے کسی قسم کا تعلق ہے ، البتہ چند روز پہلے ایک مسئلہ یہ ہوا کہ ایک محلہ دار کچھ عرصہ سے بیرون ملک جرمنی گیا ہوا تھا اس کی وہیں پر وفات ہو گئی اور اس کی نعش پاکستان لائی گئی ،اُس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بیرون ملک جانے کے لیے قادیانیت اور مرزائیت کا فارم فل کر کے گیا ہے لہذا موقع پر موجود کچھ علماءِ کرام نے یہ کہا کہ جی ایسے شخص کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے ، جب کہ سائل توقیر احمد موقع پر موجود نہ تھا بلکہ اپنی خاندانی فوتگی کی اطلاع انتظامیہ کو دے کر چلا گیا تھا جب واپس ڈیوٹی پر آیا تو لوگوں نے سوال کیا تو بندہ نے کہا جی میں اہلِ خانہ سے دریافت کر کے بتاتا ہوں کیونکہ بغیر تحقیق و تصدیق کے کچھ نہیں کہہ سکتا ، چنانچہ میں نے اہلِ خانہ سے پو چھا تو انہوں نے بتلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ مسلمان ہے اور اس کا جنازہ بھی ہوا ہے اور محلے کے ہی ایک امام مسجد نے پڑھایا ہے ، میں نے فون کرنے والوں کو بتلا دیا ،لیکن چونکہ ایک پروپیگنڈہ کی سی فضا بنی ہوئی ہے تھی لوگ کہہ رہے تھے کہ ان مولویوں نے مسلمان کو مرزائی بنا دیا ہے (معاذاللہ ) لہذا فلاں فلاں مولوی صاحب کو امامت سے فارغ کیا جائے۔
بہر حال اس دوران علاقہ کے با اثر لوگوں کو بیچ میں لا کر معاملہ کو سلجھانے کی کوشش ہوئی ،معاملہ رفع دفع ہوا کہ مرحوم کے گھر والوں ،خاندان سے معافی طلب کی گئی ،انہوں نے معاف کردیا کہ جی ہماری سُبکی ہوئی مگر ہم نے اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیا ۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ چند افراد کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ قاری صاحب نے ایک مسلمان کو مرزائی کہہ دیا ہے ، لہذا اب ان کا ایمان بھی باطل ہے اور نکاح بھی ختم ہوگیا ،لہذا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں، حالانکہ بندہ موقع پر موجود بھی نہیں تھا ،نہ جنازہ پڑھا اور نہ پڑھایا اور نہ کسی کو منع کیا البتہ تحقیقِ حال کی وجہ سے زیرِ عتاب آگیا ہے براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے بتا دیا جائے میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے ؟تا کہ بندہ اپنے ایما ن کی حفاظت اور تحفظ کے حوالے سے قرآن و سنت کے حکم پر مزید سرِ خم تسلیم کر سکے ۔ وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل نہ مذکورہ شخص کے جنازے میں موجود تھا، نہ اس نے کسی کو جنازہ پڑھنے سے منع کیا اور نہ ہی فوت ہونے والے شخص پر کفر کی تہمت لگائی ، لہذا سائل کے خلاف پروپیگنڈا بے بنیاد ہے ، جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی حرکت سے باز آئیں اور اس قسم کی شرپسندی سے اجتناب کریں، نیز سائل کی امامت میں نماز درست ہے اور مذکورہ پروپیگنڈہ کو بنیاد بنا کر سائل کو امامت سے معزول کرنا جائز نہیں۔
كما قال الله: [الأحزاب: ٥٨]
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُو الهَتَانًا وَإِنَّمَا مُبِينًا
تفسیر ابن کثیر (٤٨٠/٦) دار طيبة
وقوله : { والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا } أي: ينسبون إليهم ما هم بر آء منه لم يعملوه ولم يفعلوه { فقد احتملوا بهتانا وإثما مبينا }
كنز العمال (۸۳/۳) مؤسسة الرسالة
عن علي قال : البهتان على البري، أثقل من السموات۔
فتح الباري (٤٦٦/٢) دار المعرفة
أن أبا ذر حدثه قوله لا يرمي رجل رجلا بالفسوق ولا يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كما قال۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس