بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مقتدی کے تشہد مکمل کرنے سے پہلے امام کا کھڑا ہونا/مسبوق کا درود شریف اور دعا نہ پڑھنا

سوال

امام دوسری رکعت کےقعدہ سے کھڑا ہوجائے اور مقتدی نے ابھی تشہد مکمل نہ کی ہو تو کیا مقتدی تشہد مکمل کرے یا مکمل کیے بغیر امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے، نیز مقتدی جو مسبوق ہے امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں تشہد مکمل کر کے درود شریف اور دعا پڑھے گا یا نہیں؟

جواب

دوسری رکعت کے قعدہ میں امام کے جلدی کھڑا ہونے کی صورت میں مقتدی کو چاہیے کہ تشہد مکمل کر کے کھڑا ہو، البتہ اگر مقتدی تشہد مکمل کئے بغیر کھڑا ہو گیا تو نماز مکمل ہوگئی۔ نیز جو مقتدی مسبوق ہے قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھنے کے بعد خاموش رہے، درود شریف اور دعا نہ پڑھے۔
الدر المختار (٤٩٦/١) سعيد
وقيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لو جوبه ، ولو لم يتم جازولو سلم والمؤتم في أدعية التشهد تابعه لأنه سنة والناس عنه الغافلون۔
رد المحتار (٤٩٦/١) سعيد
(قوله فإنه لا يتابعه إلخ ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا،  ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث : المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ۔
الفتاوى الهندية (۹۹/۱) العلمية
( الفصل السادس فيما يتابع الإمام وفيما لا يتابعه ) إذا أدرك الإمام في التشهد وقام الإمام قبل أن يتم المقتدي أو سلم الإمام في آخر الصلاة قبل أن يتم المقتدي التشهد فالمختار أن يتم التشهد. كذا في الغياثية وإن لم يتم أجزاء۔
الفتاوى الهندية (۳۱/۱) العلمية
(ومنها) أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الإمام في التشهد الأخير وإذا أتم التشهد لا يشتغل بما بعده من الدعوات۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس