جھاوریاں شہر ضلع سرگودھا سے تقریباً ۳ کلو میٹر دور کچھ ڈیرہ جات ہیں جو مختلف ناموں سے موسوم ہیں (جیسے بسیر اوالا، مقیمانوالہ، سلیماں والا، الڈانے والا، المانے والا، کھوجیاں والا، امینہ والا، بھر تھ والا، دلیلے والا عبد اللہ والا) ان سب ڈیرہ جات کا دینی مرکز چاہ مقیمانوالہ ہے۔ یہاں پر ۵۰-۶۰ سال پرانی مسجد ہے جو سکول والی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ جس میں پانچ وقت اذان، نماز با جماعت ہو رہی ہے، اور بچے بچیاں قرآن کریم کی تعلیم حفظ و ناظرہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس مسجد میں نماز عید بھی پڑھائی جاتی ہے اور مذکورہ بالا تمام ڈیرہ جات داخلی شہر جھاوریاں ہے۔ ان کا ووٹ ، ان کی فوتگی ، ان کی خوشی غمی سب شہر میں ہوتی ہے۔
اب گزارش یہ ہے کہ ہم چاہ مقیمانوالہ کی سکول کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر علاقے کا مجاز افسر (چیئر مین یا S.H.O یا اے سی ) ہمیں قیام جمعہ کی اجازت دے دیں تو کیا ہمارا اس مسجد میں جمعہ ادا کر ناشر عا جائز ہے یا نہیں ، اور یہاں جمعہ ادا کرنے سے ادا ہو جائے گا یا نہیں۔ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
واضح رہے کہ جمعہ درست ہونے کے لیے شہر /قصبہ یا اس کا مضافات ہونا شرط ہے ، چھوٹے گاؤں میں جمعہ اداکرنا صحیح نہیں ہے ،اور قصبہ اسے کہتے ہیں جس میں متصل آبادی دوتین ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اورروزِ مرہ کی ضروریات پر مشتمل بازار روزانہ لگتاہو ، اس میں ڈاکٹر یا حکیم موجود ہو ، ڈاکخانہ بھی ہو،اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو ،اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، اس تفصیل کی روشنی میں چاہ مقیمانوالا اگر چھوٹا گاؤں ہے اور اس میں جمعہ ادا کرنے کی شرائط نہیں پائی جارہیں تووہاں جمعہ اداکرنے کی بجائے ظہر کی نماز اداکرنے کا اہتمام کیا جائے ،اور گذشتہ عرصہ کی ظہر کی نمازوں کی قضا کریں، لیکن اگر جمعہ کا سلسلہ منقطع کرنے کی صورت میں شدید انتشار یا پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو تو اس علاقے کے مجاز افسر مثلاً ضلعی ناظم ،ڈپٹی کمشنر اور سیشن جج وغیرہ کی اجازت سے وہاں جمعہ کی نماز اداکرسکتے ہیں ،البتہ اس افسر کی موت یا تبدیلی کی صورت میں نئے افسر سےدوبارہ اجازت لینا ضروری ہوگا ۔
في مصنف عبد الرزاق الصنعاني (3/ 168)
عن أبي عبد الرحمن السلمي، عن عليّ قال: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع» وكان يعد الأمصار: البصرة، والكوفة، والمدينة، والبحرين، ومصر، والشام، والجزيرة وفي إعلاء السنن : أخرجه أبوعبيد بإسناد صحيح إليه موقوفا، ومعناه : لا صلاة جمعة ولا صلاة عيد. كذا في فتح الباري۔
فی فتاویٰ قاضی خان (1/155) ط:رشیدیہ
ولا یکون الموضع مصراً فی ظاہر الروایۃ الا ان یکون فیہ مفت وقاض یقیم الحدود وینفذ الاحکام وبلغت ابنیۃ ابنیۃ منی ۔۔
فی الشامیۃ (2/ 138)
قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم۔