بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سنن اور نوافل میں خلاف ِ ترتیب سورتیں پڑھنا مکرو ہ نہیں

سوال

ہم نے علما سے سنا اور پڑھا ہے کہ نماز میں دو یا اس سے زائد رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد جو دوسری سورت ساتھ پڑھنی ہے تو اس میں سورتوں کی ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے مثلاً سورۃ فیل کے بعد سورۃ قریش پھر کافرون اور پھر سورۃ اخلاص۔ یعنی کہ ایک ترتیب کا لحاظ رکھنا ہے۔ براہ کرم آگاہ کیجئے کہ کیا یہ ترتیب صرف مخصوص رکعت کے لئیے ہے یعنی اگر ہم نماز ظہر پڑھ رہے ہیں تو کیا یہ ترتیب چار رکعت سنت سے لے کر دو رکعت نفل تک ملحوظ خاطر رکھنی ہوگی یا چار رکعت سنت ااور پھر چار فرض پھر دو رکعت سنت اور دو رکعت سنت اور دو رکعت نفل میں یہ ترتیب بدلی جاسکتی ہے۔ یعنی چار سنتوں کی ترتیب الگ ، چار رکعت فرض کی الگ وغیرہ وغیرہ

جواب

واضح رہےکہ ہرتحریمہ کےاحکام الگ ہوتےہیں نیزسورتوں کی ترتیب کی رعایت کا تعلق فرائض کی رکعات کےساتھ ہے،سنن ونوافل میں خلاف ترتیب پڑھنا مکروہ نہیں۔لہٰذا ظہر کی نمازمیں سنن قبلیہ کی پہلی رکعت سے لےکرآخرمیں اداکئےجانےوالےنوافل کی آخری رکعت تک تمام رکعات میں سورتوں کی ترتیب کی رعایت ضروری نہیں بلکہ صرف فرض نماز کی دورکعات میں سورتوں کی ترتیب کی رعایت رکھنا کافی ہے۔
ردالمحتار (1/ 547)دارالفکربیروت
ويكره الفصل بسورة قصيرة وأن يقرأ منكوسا إلا إذا ختم فيقرأ من البقرة. وفي القنية قرأ في الأولى الكافرون وفي الثانية – ألم تر – أو- تبت – ثم ذكر يتم وقيل يقطع ويبدأ، ولا يكره في النفل شيء من ذلك
الفتاوى الهندية (1/87)دارالکتب العلمیۃ بیروت
وأما في ركعتين إن كان بينهما سور لا يكره وإن كان بينهما سورة واحدة قال بعضهم: يكره، وقال بعضهم: إن كانت السورة طويلة لا يكره. ۔۔۔وقال بعضهم: لا يكره أصلا وإذا قرأ في ركعة سورة وفي الركعة الأخرى أو في تلك الركعة سورة فوق تلك السورة يكره وكذا إذا قرأ في ركعة آية ثم قرأ في الركعة الأخرى أو في تلك الركعة آية أخرى فوق تلك الآية وإذا جمع بين آيتين بينهما آيات أو آية واحدة في ركعة واحدة أو في ركعتين فهو على ما ذكرنا في السوركذا في المحيط. هذا كله في الفرائض وأما في السنن فلا يكره. هكذا في المحيط ولو قرأ في ركعة سورة وقرأ في الركعة الأخرى سورة أخرى بينهما سورة أو قرأ سورة فوق تلك السورة فالمختار أنه يمضي في قراءتها ولا يترك
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (1/352)دارالکتب العلمیۃ بیروت
قوله: “لا يكره هذا في النفل” يعني القراءةمنكوسا والفصل والجمع كما هو مفاد  عبارة الخلاصة حيث قال بعد ما ذكر المسائل الثلاث وهذا كله في الفرائض أما في النوافل لا يكره اهـ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس