بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا

سوال

اگر کسی شخص نے سہواً فرض نماز(چار رکعت والی)کی آخری دو رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ کوئی سورت ضم کی،تو آیا اس شخص پر سجدہ سہو لازم ہے یا نہیں؟

جواب

چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا خلافِ سنت ہے۔البتہ اگر کسی نے ملادی تو اس سے سجدہ سھو لازم نہیں آئے گا۔
الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،باب سجود السهو (1/ 139)دارالكتب العلمية
ولو قرأ في الأخريين الفاتحة والسورة لا يلزمه السهو وهو الأصح۔
الدر المختار،كتاب الصلاة (2/ 270)رشيدية
(واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر، ولو زاد لا بأس به۔
رد المحتار،كتاب الصلاة(2/ 270)رشيدية
(قوله ولو زاد لا بأس) أي لو ضم إليها سورة لا بأس به لأن القراءة في الأخريين مشروعة من غير تقدير والاقتصار على الفاتحة مسنون لا واجب فكان الضم خلاف الأولى وذلك لا ينافي المشروعية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس