ایک مسلمان بندے کو کوئی شخص قتل کر دیتا ہے اور اس کی لاش بالکل غائب ہو جاتی ہے کچھ دن بعد اس کی لاش کے بعض تین ،چار چھوٹے ٹکرے مل جاتے ہیں اور دس دن بعد کچھ اور ٹکڑے (جو آدھا جسم بھی نہیں بنتے ) مل جاتے ہیں ان ٹکڑوں کی نماز ِ جنازہ ادا کی جائے گی کہ نہیں ؟ نیز کتنے اجزاء پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی ؟
لاش اگر ٹکڑوں میں ملے تواگر وہ آدھے جسم سے زائد ہو یا آدھا جسم سر کے ساتھ ملے تو ایسی صورت میں اس کو غسل و کفن اور جنازہ پڑھ کر دفنا دیا جائے اور اگر آدھے جسم کے بقدر( بغیر سر کے ) ٹکڑے ملیں یا آدھے سے کم ملیں تو ان صورتوں میں انہیں بغیر غسل وکفن اور بغیر جنازہ کے کسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر دفنا دیا جائے۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 159)دار الفكر
ولو وجد أكثر البدن أو نصفه مع الرأس يغسل ويكفن ويصلى عليه، كذا في المضمرات، وإذا صلي على الأكثر لم يصل على الباقي إذا وجد، كذا في الإيضاح وإن وجد نصفه من غير الرأس أو وجد نصفه مشقوقا طولا فإنه لا يغسل ولا يصلى عليه ويلف في خرقة ويدفن فيها، كذا في المضمرات۔
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (2/ 199)دار الفكر
(وجد رأس آدمي) أو أحد شقيه (لا يغسل ولا يصلى عليه) بل يدفن إلا أن يوجد أكثر من نصفه ولو بلا رأس۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (2/ 199)
(قوله ولو بلا رأس) وكذا يغسل لو وجد النصف مع الرأس بحر۔