بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غلطی سے چھوڑی ہوئی دعائے قنوت کو رکوع کے بعد پڑھ کر دوبارہ رکوع کرنا

سوال

میں وتر پڑھتے ہوئے آخری رکعت میں دعائے قنوت بھول گیااور رکوع میں یاد آئی تو رکوع سے کھڑے ہو کر “ربنا لک الحمد ” پڑھ کر دعائے قنوت پڑھی اور پھر رکوع اور قومہ کر کے آخر میں سجدہ سہو کر لیا ،تو کیا اس طرح سجدہ سہو کرنے سے میری نما زادا ہوگئی جبکہ دوسرا رکوع جان بوجھ کر کیا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ نے سجدہ سہو کر لیا تو آپ کی نماز ادا ہو گئی ،نیزرکوع کے بعد قنوت پڑھنے اور اس کے بعد دوبارہ رکوع کرنے سے آپ کی نماز فاسد نہیں ہوئی ،البتہ اصل حکم یہی ہے کہ رکوع میں قنوت یاد آنے پر مُصلِّیْ(نماز پڑھنے والا) دوبارہ قنوت کے لیے نہ کھڑا ہو بلکہ ترتیب کے مطابق نماز ادا کر کے آخر میں سجدہ سہو کر لے ۔
:الفتاوى الهندية (1/ 126)
ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره۔
:الدر المختار (2/ 9)
(ولو نسيه) أي القنوت (ثم تذكره في الركوع لا يقنت) فيه لفوات محله (ولا يعود إلى القيام).. (وسجد للسهو)۔
:بدائع الصنائع (1/ 274) دار الكتب العلمية 
وأما حكم القنوت إذا فات عن محله فنقول: إذا نسي القنوت حتى ركع ثم تذكر بعد ما رفع رأسه من الركوع لا يعود ويسقط عنه القنوت وإن كان في الركوع فكذلك في ظاهر الرواية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس