بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قعدہ میں تکرار تشہد سے سجدہ سہو کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص تشہد کا کچھ حصہ پڑھنے کے بعد دوبارہ نئے سرے سے شروع کرتا ہے کیا اس پر سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب

قعدہ اخیرہ میں تکرار تشہد سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا البتہ اگر کسی شخص نے قعدہ اولی میں اکثر حصہ کا تکرار کیا یعنی تشہد کا اکثر حصہ پڑھنے کے بعد دوبارہ شروع سے لوٹایا تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔
:حاشية الطحطاوي (461)رشیدیۃ
ولو قرأ ‌التشهد ‌مرتين في القعدة الأخيرة أو تشهد قائما أو راكعا أو ساجدا لا سهو عليه۔
:الفتاوی الھندیۃ (1/139) علمیۃ
لو قرء الفاتحۃ الا حرفا او قرء اکثرھا ثم اعاد ساھیا فھو بمنزلۃ مالو قرءھا مرتین کذا فی الظہیریۃ۔
:الفتاوی الھندیۃ (1/140) علمیۃ
ولو کرر التشہد فی القعدۃ الاولی فعلیہ السہو۔
:الفتاوی الھندیۃ (1/139) علمیۃ
ولا یجب السجود الابترک واجب او تاخیرہ او تاخیر رکن او تقدیمہ او تکرارہ او تغییر واجب۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس