بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فاسق کی امامت کا حکم

سوال

میرا ایک قریبی جو حافظ وقاری ہے اور ایک مسجد میں امام مقرر ہے وہ خود بھی ڈرامے دیکھتا ہے اور اپنی بیٹیوں کو بھی دکھاتا ہے،ایسے شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے جبکہ دوسری مسجد پیدل تقریباً بیس ، پچیس منٹ کے فاصلے پر ہے ، یہ بھی بتائیے کہ میں اس معاملے کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں کی نمازیں خراب نہ ہوں اس کا کیا حل ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص اگرواقعۃ ذکرکردہ گناہ میں مبتلا ہےتوایسےشخص کواپنےاختیارسے امام بنانا ناجائزاورمکروہ تحریمی ہےاورحتی الامکان خلوص نیت اورحکمت کےساتھ اس کی اصلاح کرنی چاہئے۔تاہم مذکورہ شخص کی تقرری اورمعزولی کےمتعلق اگرآپ کےپاس کوئی اختیارنہیں توآپ کی نمازاداہوجائےگی۔
:رد المحتار (1/ 559)دارالفکر
(قوله ويكره تنزيها إلخ) لقوله في الأصل: إمامة غيرهم أحب إلي بحر عن المجتبى والمعراج، ثم قال: فيكره لهم التقدم؛ ويكره الاقتداء بهم تنزيها؛  فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد۔
:البحر الرائق (1/ 370)دارالکتب الاسلامی
وفي المجتبى وهذه الكراهة تنزيهية لقوله في الأصل إمامة غيرهم أحب إلي وهكذا في معراج الدراية، ۔۔۔وفي الفتاوى لو صلى خلف فاسق أو مبتدع ينال فضل الجماعة لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لقوله – صلى الله عليه وسلم – «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي»۔
:منحة الخالق علی البحرالرائق(1/610)رشیدیۃ
فالحاصل انہ یکرہ۔۔۔ ان کراھۃ  تقدیم الفاسق والمبتدع کراھۃ التحریم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس