بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نماز میں حالتِ قیام میں پاؤں اٹھانا

سوال

نماز میں قیام کی حالت میں سیدھا پاؤں اٹھانا کیسا ہے کیا اس طرح کرنے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی اور کتنی دیر تک پاؤں اٹھاسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ دوران نماز بلا عذر اپنے پاؤں کو اٹھانا مکروہ ہے البتہ اگر کوئی اپنے پاؤں کو اٹھاتا ہے تو اس عمل سے نماز نہیں ٹوٹے گی ۔
:ردالمحتار (1/444)سعید
ويكره القيام على أحد القدمين في الصلاة بلا عذر۔۔۔ولو قام على أصابع رجليه أو عقبيه بلا عذر يجوز۔
الجوهرالنيرة علی مختصرالقدوری(1/135)رشيدية
(قوله: والقيام) والوتر وحد القيام أن يكون بحيث إذا مد يديه لا ينال ركبتيه ويكره القيام على أحد القدمين في الصلاة من غير عذر وتجوز الصلاة وللعذر لا تكره۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس