میری والدہ زندگی کے آخری زمانہ میں بھولنے کی ایسی کیفیت میں مبتلا تھیں کہ نماز پڑھ لینے کے بعد بھی یاد نہیں رہتا تھا کہ نمازپڑھ لی کہ نہیں؟اور ایک وقت میں دو بار بھی نماز پڑھ لیتی تھیں ،اسی طرح بعض اوقات نماز میں منافئ صلاۃ کام بھی کر لیتی تھی تو جب انہیں مطلع کیا جاتا تو کہتیں اللہ قبول کرنے والا ہے ،نیز بعض اوقات انہیں نماز میں کسی منافئ صلاۃ کام پر تلقین بھی کی جاتی تھی ،اب ان کا انتقال ہو گیا ہے تو ان کی نمازوں کا کیا حکم ہے اور نمازیں اگر ادا نہیں ہوئیں تو ان کے فدیے کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کی کیفیت آخری عمر میں اگر مستقل طور پر ایسی ہوگئی تھی کہ انہیں نماز کی رکعات اور سجود وغیرہ کی تعداد یاد نہیں رہتی تھی تو ایسی صورت میں ان پر سے نماز کا فریضہ ساقط ہو چکا تھا ،لہذا ایسی نمازوں کی نہ قضا کی جائے گی اور نہ فدیہ دیا جائے گا ،البتہ اگر صورتِ حال اس کے برعکس ہو کہ کبھی رکعات کی تعداد بھول جاتی ہوں ،تو ایسی صورت میں جو نمازیں منافئ صلاۃ امور کے ساتھ ادا کی گئیں ان نمازوں کا ایک محتاط اندازہ لگا کر ورثاء اپنے مال میں سے فدیہ ادا کر دیں ۔
:كما قال الله تعالي
لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًاإلَّا وُسْعَهَا۔(البقرة:286)
:أحكام القرآن للجصاص (2/ 277) دار إحياء التراث العربي
قوله تعالى لا يكلف الله نفسا إلا وسعها فيه نص على أن الله تعالى لا يكلف أحدا ما لا يقدر عليه ولا يطيقه ولو كلف أحدا ما لا يقدر عليه ولا يستطيعه لكان مكلفا له ما ليس في وسعه ألا ترى قول القائل ليس في وسعي كيت وكيت بمنزلة قوله لا أقدر عليه ولا أطيقه بل الوسع دون الطاقة ولم تختلف الأمة في أن الله لا يجوز أن يكلف الزمن المشي والأعمى البصر والأقطع اليدين البطش لأنه لا يقدر عليه ولا يستطيع فعله ولا خلاف في ذلك بين الأمة۔
:الدر المختار (2/ 100)دار الفكر
(ولو اشتبه على مريض أعداد الركعات والسجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء) ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزيه كذا في القنية۔
:رد المحتار(2/ 100)
(قوله ولو اشتبه على مريض إلخ) أي بأن وصل إلى حال لا يمكنه ضبط ذلك، وليس المراد مجرد الشك والاشتباه لأن ذلك يحصل للصحيح۔
:الفتاوى الهندية (1/ 125) دار الفكر
اذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع۔۔۔وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز۔