ایک مسئلہ کے بارے میں راہنمائی درکار ہے ،ہمارا گاؤں جس میں اشیاء خورد و نوش کی چار سے پانچ دکانیں ہیں جن میں کپڑے جوتے وغیرہ بھی دستیاب ہیں،اس کے ساتھ پرائمری سکول اور ایک ڈاکٹر جو گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ علاج معلاجہ وغیرہ بھی کرتا ہے نیز گاؤں کی آبادی پندرہ سے دو ہزار ہے اب وہاں امام صاحب صرف عیدین پڑھاتے ہیں اور جمعہ پڑھنے کے لئے شہر جاتے ہیں ،اب شریعت کی روشنی مین ان کا مذکورہ بستی میں جمعہ پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمائیں ۔
اصلاً شہر میں نمازِ جمعہ قائم کرنا واجب ہے،یا ایسا بڑا گاؤں یا قصبہ ہو جس میں گلی کوچے اور بازار وغیرہ ہوں اور ضروریاتِ زندگی عام طور پر ملتی ہو تو اس میں بھی نماز جمعہ قائم کرنا جائز ہے،البتہ چھوٹا گاؤں جس میں عام ضروریاتِ زندگی مہیا نہ ہوں اس جگہ جمعہ قائم کرنا درست نہیں ہے اور صورت مسئولہ میں بستی کے جو احوال بیان کیے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے یہ بستی چھوٹا گاؤں ہے جو قصبہ کے حکم میں نہیں ہے لہذا یہاں پر جمعہ قائم کرنا جائز نہیں ہے۔
:مصنف ابن أبي شيبة (1/ 439) مكتبة الرشد – الرياض
عن إبراهيم، قال: «لا جمعة، ولا تشريق، إلا في مصر جامع»۔
:بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 259) دار الكتب العلمية
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔۔۔ أما المصر الجامع۔۔۔وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح۔
:مراقي الفلاح ( 193) المكتبة العصرية
ويشترط لصحتها” أي صلاة الجمعة “ستة أشياء” الأول “المصر أو فناؤه” سواء مصلى العيد وغيره لأنه بمنزلة المصر في حق حوائج أهله۔