بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قریہ کبیرہ میں نماز جمعہ و عیدین اد اکرنا

سوال

ہمارے گاؤں میں قیام پاکستان سے لے کر اب تک عیدین کی نماز اداء کی جارہی ہے۔ ہمارے گاؤں کی کثیر تعداد کی یہ دلی تمنا ہے کہ گاؤں میں بغیر کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ اور حضرات مفتیان کرام کی رائے میں جمعہ اور عیدین کی نماز شروع ہوجائے تاکہ گاؤں والے اپنے عقیدے کا دفاع اور اس اہم عبادت سے محروم نہ ہوں۔ حضرات مفتیان کرام
نمبر۱۔ کیا ہمارا گاؤں قریہ کبیرہ میں شامل ہے۔ شرعی نکتہ نظر سے آگاہ فرمائیں۔
نمبر۲۔ کیا ان سہولیات کے ہوتے ہوئے جمعہ کی شرائط مکمل ہیں۔
نمبر۳۔ اس پوری صورت حال کے پیشِ نظر کیا ہمارے گاؤں میں جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے؟

جواب

سوال میں مذکورہ گاؤں کے جو احوال ذکر کئے گئےہیں ان کے پیش نظر یہ گاؤں قریہ کبیرہ کے حکم میں داخل ہے ،لہذا اس میں نماز عیدین وجمعہ پڑھناجائز ہے۔
المصنف لابن أبي شيبة(م: 235هـ)(1/ 439) مكتبة الرشد – الرياض
عن أبي عبد الرحمن، قال: قال علي: «لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر ولا أضحى، إلا في مصر جامع، أو مدينة عظيمة» قال حجاج: وسمعت عطاء، يقول: مثل ذلك۔
الفتاوى الهندية(1/ 145) دارالفكر
والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان.وفي الخلاصة وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية ومعنى إقامة الحدود القدرة عليها، هكذا في الغياثية۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي (م: 1252هـ)(2/ 137)سعيد
عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح. (فتاوى محمودیہ(6/64،71)فاروقیہ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس