بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جو شخص طواف اور سعی کے چکروں کی گنتی بھول جاتا ہو تو وہ کیا کرے؟

سوال

اگر کسی شخص کو بھولنے کی بیماری ہو تو عمرہ کے افعال ادا کرتے وقت بھول جائے جیسا کہ طواف کے چکر لگاتے وقت کتنے چکر لگائے ہیں اور کتنے نہیں لگائے اور سعی کرتے وقت۔ آیا اس شخص کے لیے کیا حکم ہے وہ کیسے افعال ادا کرے ۔ قرآ ن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

عمرہ کے طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہوجائے تو ازسرنو طواف کرے،البتہ نفلی طواف ہو تو اعادہ ضروری نہیں بلکہ غلبہِ ظن پر عمل کرے ۔اسی طرح اگر سعی کے چکروں میں کچھ شک ہو تو کم کا اعتبار کرکے بقیہ چکر پورے کرے۔(شک اور بھولنے سے بچنے کے لئے تسبیح کے دانوں کا اہتمام کرے یا کسی دوسرے شخص سے اس بارے میں مدد لے)۔
رد المحتار على الدر المختار ،کتاب الحج(2/582)رشیدية
ولو شك في عدد الأشواط في طواف الركن أعاده، ولا يبني على غالب ظنه؛ بخلاف الصلاة وقيل إذا كان يكثر ذلك يتحرى۔۔۔۔ولو اخبرہ عدل بعدد یستحب ان یاخذہ بقولہ،ولو اخبرہ عدلان وجب العمل بقولھما۔۔۔۔لوشک فی اشواط غیر الرکن لایعیدہ،بل یبنی علی غلبۃ ظنہ،لان غیر الفرض علی التوسعۃ،والظاہر ان الواجب فی حکم الرکن،لان فرض عملی۔
غنیۃ(131)
ولو شک فی عدد اشواط السعی اخذباالاقل۔۔۔۔لو اخبرہ ببقاء شیئ ثقۃ  وشک فی صدقہ یستحب الاخذ بقولہ،وثنتان وشک فی صدقھما وجب الاخذ بقولھما۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس