بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فجر ، عصر اور مغرب کی نماز کے بعد سونا

سوال

عصر اور مغر ب کےبعد سونا کیساہے اور اسی طرح فجر کی نماز کےبعدسونا ۔ کیااس وقت سونے میں کوئی وعید آئی ہے ۔اور اگر مجبوری ہوتو اس وقت سونا کیساہے؟ مثلاً بندہ سفر سے واپس آئے اور بیماری ،تھکاوٹ وغیرہ ہوتواس کےبارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

كسی عذر اور ضرورت كی وجہ سے سوال میں مذكور اوقات ميں سونے كی اجازت ہے ، البتہ عام حالات ميں تفصيل يہ ہے كہ نمازفجر كے بعدسے اشراق تك اور نماز عصركے بعدسے مغرب تك سونا مكروه ہے۔نيز عشاء سے پہلے سونا اس شخص كے ليے مكروه ہے جس كو نمازكے ليے اٹھنے پر بهروسہ نہ ہو۔
سنن النسائی (232) الرسالۃ والناشرون کتاب المواقیت 
 (وکان یستحب ان یؤخر العشاء التی تدعومنھا العتمۃ وکان یکرہ النوم قبلھا )
مشکل الاثار(3/103) اشرفیہ ،کوئٹہ
عن عثمان رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ان الصبحۃ تمنع بعض الرزق )۔
اوجز المسالک (1/6 28 )بیروت
انما کرہ النوم لمن خشی فوت الوقت اولجماعۃ واما من وکل نفسہ الی من یوقظہ فیباح لہ اھ ۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ  (1/470) رشیدیہ کوئٹہ 
ویکرہ النوم بعد العصر لحدیث (من نام بعد العصر فاحتل عقلہ ،فلا یلومن الا نفسہ) والنوم بعد الفجر ۔
ردالمحتار(1/368)سعید
قال الطحاوی انما کرہ النوم قبلہا لمن خشی علیہ فوت وقتہا اوفوت الجماعۃ قبلہا واما من وکل نفسہ الی من یوقظہ فیباح لہ النوم اھ ۔
الفتاوى الهندية (5/ 376)بیروت
يكره النوم في أول النهار وفيما بين المغرب والعشاء ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس