بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سفر شرعی کی مسافت اور نماز کا حکم

سوال

کیا مسافر شخص امام کے ساتھ نماز پڑھے گا تو پورے فرض پڑھے گا؟ اور اگر اکیلے نماز پڑھے گا تو فجر کے 2فرض، ظہر کے 2فرض،عصر کے 2 فرض ، مغرب کے 3فرض ، عشاء کے 2فرض اور 3 وتر پڑھے گا؟ اور کیا جب آدمی 87 کلومیٹر اور 15 دن سے کم کے سفر کا ارادہ کرلے تو اس پر سفری نماز لاگو ہوجاتی ہے ؟

جواب

مذکورہ اشتہار میں سفر کی جو مسافت لکھی ہوئی ہے وہ درست نہیں ہے مختار قول کے مطابق سفر کی شرعی مسافت اڑتالیس(48) میل ہے جو کہ تقریباً اٹھہتر(78) کلومیٹر بنتی ہے اور صرف ارادے سے قصر نماز لاگو نہیں ہوتی بلکہ اپنے شہر سے نکلنے پر نماز قصر لاگو ہوگی ۔ نیز اگر سفر جاری نہ ہو بلکہ کسی مقام پر قیام ہو تو سنت مؤکدہ بھی ادا کرلی جائیں۔
الدر المختار (2/726) رشیدیۃ
( صلی الفرض الرباعی رکعتین) وجوبا لقول ابن عباس: ان اللہ فرض علی لسان نبیکم صلاۃ المقیم اربعا۔
الفتاوی الھندیۃ (1/152)
اقل مسافۃ تتغیر فیھا الاحکام مسیرۃ ثلاثۃ ایام، کذا فی التبیین۔۔۔۔ و فرض المسافر فی الرباعیۃ رکعتان، کذا فی الھدایۃ۔
رد المحتار (2/723) رشیدیۃ
( قولہ قاصدا) اشار بہ مع قولہ خرج الی انہ لو خرج ولم یقصدا او قصد ولم یخرج لا یکون مسافرا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس