بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امام کے ساتھ رکوع میں کتنی تسبیح کے بقدر شریک ہونا ضروری ہے

سوال

کچھ امام ایسے ہوتے ہیں کہ رکوع سے پورا کھڑے ہوجاتے ہیں، پھر تکبیر کہتے ہیں، ایسی حالت میں کہ امام کھڑا ہوگیا کوئی مقتدی جو امام کو نہیں دیکھ رہا ہے، اس نے نیت باندھ لی تو کیا اس کی نماز ہوگی؟ ظاہر ہے کہ اس کی نماز نہ ہوگی، لیکن اس کی نماز رہ گئی ہے، اس کا گناہ گار کون ہوگا؟وضاحت فرمائیں ۔

جواب

امام کو رکوع سے کھڑے ہوتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہنا چاہیے نہ کہ مکمل کھڑا ہونے کے بعد اگر کوئی شخص امام کے ساتھ شریک ہوا جبکہ امام رکوع سے کھڑا ہوچکا تھا اور اسے نماز کے بعد کسی نے خبر دی تو سلام پھیرنے کے بعد جب تک نماز کے خلاف عمل نہ کیا ہو بقیہ رکعات مکمل کرے۔ورنہ نماز دہرائے۔
حاشيه طحطاوي علي مراقي الفلاح(455)رشيديه كوئٹہ
 “ومن أدرك إمامه راكعا فكبر ووقف حتى رفع الإمام رأسه” من الركوع أو لم يقف بل انحط بمجرد إحرامه فرفع الإمام رأسه قبل ركوع المؤتم “لم يدرك الركعة” كما ورد عن ابن عمر رضي الله عنهما۔قوله: “فرفع الإمام رأسه” مراده أنه رفع قبل أن يشاركه المؤتم في جزء من الركوع وإلا فظاهر التعبير بالفاء أن الرفع تحقق بعد الإنحطاط وحينئذ تحقق المشاركة فتكون الصلاة صحيحة قوله: “كما ورد عن ابن عمر رضي الله عنهما” ولفظه إذا أدركت الإمام راكعا فركعت قبل أن يرفع رأسه فقد أدركت الركعة وإن رفع قبل أن تركع فقد فاتتك الركعة”. فقط واللہ اعلم۔
الدر المختار (2۔623)رشيديۃ
ولو اقتدى بامام راكع فوقف حتي رفع الامام راسه لم يدرك) المءتم ( الركعة)، لان المشاركة في جزء من الركن شرط ،ولم توجد فيكون مسبوقافياتى  بهابعد فراغ الامام۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس