اگر اجتماعی قربانی کرنے والے پہلے سے ہی اپنی اجرت متعین کر لیتے ہیں تو ان کے لیے اجرت لینا جا ئز ہے اور اگر ابتدا میں پہلے سے اجرت متعین نہیں کرتے تو ان پیسوں کو طے شدہ امور (مثلاً:جانوروں کی خریداری دیکھ بھال وٖغیرہ ٗ) میں خرچ کرنا ضروری ہے اور جو پیسے بچ جائیں وہ حصہ دارا ن کو واپس کر دیں کیونکہ منتظمین حضرات کی اس میں شرعی حیثیت وکالت کی ہوتی ہے اور وکیل کے لئے اجرت پہلے ہی سے متعین کر کے لینا جائز ورنہ جائز نہیں الا یہ کے وہ حصہ داران خوشی سے دے دیں تو لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
سنن الدار قطنی (3/22)علمیه
لَا يَحِلُّ لِامْرِءٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ»۔
الفقه الاسلامي وادلته (5 ،4058) رشيدية
الوكالة باجر تصح الوكالة باجر وبغير اجر :لان النبي ﷺ کان یبعث عماله لقبض الصدقات ویجعل لھم عمولة۔
درر الحکام شرح مجله الاحکام (3/574) عربیة
اذا شرطت الاجرۃ فی الوکالة واوفاھا الوکیل استحق الاجرۃ وان لم تشترط ولم یکن الوکیل ممن یخدم بالا جرۃ کان متبرعا فلیس لہ ان یطالب بالاجرۃ۔
الفقه الاسلامی وادلته (5 /4114) رشیدیة
واما الوکالۃ باجر فان کانت علی سبیل الجعالة بان لم فی العقد الزمن و العمل فھی غیر لازمة ایضا۔۔۔ وان کانت علی سبیل الاجارۃ بان عین الزمن والعمل کالبیاع والسمسار فھی لازمة عند الحنفیة۔