بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گاؤں ميں نماز جمعہ كا حكم

سوال

مفتی صاحب یہ مسجد پاک گلی بازار سے تقریباً تین چارمنٹ کی ڈرائیو پر مین روڈ پر تعمیر کے آخری مراحل میں ہے اس کے قریب ایک دوکان ہے جس سے کھانے پینے کی عام طور پر استعمال ہونے والی اکثر اشیاء مل جاتی ہیں اس کے علاوہ کوئی سکول وغیرہ قریب میں موجود نہیں ہے گاؤں میں تقریباً چالیس گھر ہیں اس گاؤں سے جامع مسجد پاک گلی تک پیدل راستہ دس پندرہ منٹ کا ہے اس کے قریب کوئی سکول تھانہ وغیرہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں دوسرے دو گاؤں ہیں جن میں شرائط نہ پائے جانے کے باوجود بریلوی مسلک کے حضرات جمعۃ المبارک کی نماز پڑھاتے ہیں۔ اگر ہم نے منع کیا تو غالب گمان ہے کہ بریلوی یا پھر اہل حدیث مسلک کے لوگ قابض ہوجائیں گے اس صورت میں بظاہر زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے ان حالات میں ایک نئی جگہ پر جہاں شرائط جمعہ نہیں پائی جاتی نماز جمعہ شروع کر سکتے ہیں؟ دلائل سےجواب درکار ہے۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال سے مذکورہ گاؤں کی کیفیت پوری طرح واضح نہیں ہو رہی۔ تاہم گھروں کی تعداد سے معلوم ہو رہا ہے کہ مذکورہ گاؤں قریہ صغیرہ ہے اور احناف رحمہم اللہ کے نزدیک قریہ صغیرہ میں نماز جمعہ قائم کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر قریات میں شرائط جمعہ نہ ہونے کے باوجود جمعہ پڑھنا اس جگہ پر جمعہ پڑھنے کے لیے جواز نہیں بن سکتا۔
لہذا مذکورہ گاؤں میں قیامِ جمعہ کے لیے ہماری رائے یہ ہے کہ وہاں کے چند معتبر مقامی علمائے کرام کو گاؤں دکھا کر ان کی رائے اور مشورے پر عمل کیا جائے تاکہ انتشار اور اختلاف سے بچا جا سکے۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس