بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سجدہ تلاوت کا ثبوت اور اس کی حکمت

سوال

سجدہ تلاوت کیوں کرتےہیں ؟

جواب

آیات سجدہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے سجدہ کا حکم یاکفار ومنکرین کا سجدہ سے انکار وتکبر یا فرمانبرداروں کی عاجزی مذکورہے اسی وجہ سے ان آیات کی تلاوت کے بعد سجدہ کرنےکاحکم ہے اور اس کی اہمیت وتاکید رسول اللہﷺ سے منقول ہے ،حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه نے رسول اللہﷺ کامبارک ارشاد نقل فرمایا ہے کہ
جب کوئی بندہ آیتِ سجدہ کی تلاوت کرتا ہے اور سجده كرتاہے تو شیطان الگ ہو کر روتاہے (واویلا کرتا ہے اور)کہتا ہے کہ :ہائے کاش !انسان کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا اس لیے اس کے لیے جنت ہے ،اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے سجدہ نہیں کیا اس لیے میرے لیےجہنم ہے (صحیح مسلم،کتاب الایمان)
صحيح مسلم مسلم بن الحجاج أبو الحسن(م: 261ھ)(1/ 87) دارإحياءالتراث العربي: عن أبي ہريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم: إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي، يقول: يا ويلہ – وفي رواية أبي كريب: يا ويلي – أمر ابن آدم بالسجود فسجد فلہ الجنة، وأمرت بالسجود فأبيت فلي النار
الصحيح لمحمدبن إسماعيل البخاري(م:256ھ)(1/146)محمودیة
عن عبد الله رضي الله عنه قال قرأ النبي صلى الله عليه وسلم: النجم بمکۃ فسجد فیها، وسجد من معه، غير شيخ أخذ كفا من حصی او تراب فرفعه إلى جبهته، فقال: يكفيني هذا ” قال عبد الله: فلقد رأيته بعد قتل كافرا۔۔۔ عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأعليناالسورة، فيها السجدة فيسجد ونسجد، حتى مايجدأحدناموضع جبهته»۔
بدائع الصنائع،العلامةعلاءالدين الكاساني(م:587ھ)(1/729)دارالکتب العلمیة
مواضع السجودفي القرآن منقسمة،منهاماهوأمربالسجود وإلزام للوجوب كما في آخر سورة القلم،ومنهاماهوإخبارعن استكبار الكفرة عن السجود،فيجب علينامخالفتهم بتحصيله،ومنهاماهو إخبارعن خشوع المطيعين فيجب علينامتابعتهم لقوله تعالى{فبهداهم اقتده}[الأنعام: 90]۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس