بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جمعہ کی اذان اول اور تقریر کا وقت

سوال

دریافت یہ کرنا ہے کہ ہماری مارکیٹ کی مسجد میں جمعہ کی پہلی اذان زوال کے بعد ہو تی ہے ، اس کے بعد بیان اور سنتیں پھر دوسری اذان۔ ۔۔یہ ترتیب پہلے سے چلی آرہی ہے ۔لوگ پہلی اذان کے بعد بروقت مسجد نہیں پہنچتے ، اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں اور گناہ گار ہوتے ہیں ۔ اس صورت حال کے تناظر میں ہم انتظامیہ کے افراد یہ چاہتے ہیں کہ ترتیب کچھ اس طرح سے بنائی جائےکہ پہلے بیان (مقررہ وقت کے حساب سے) پھر اذان اول ،سنتیں اور پھر جمعہ کی اذان ثانی۔۔۔تاکہ لوگ گناہ سے بچ جائیں اور ہمارا نیک عمل لوگوں کے لئے گناہ میں مبتلاء ہونے کا ذریعہ نہ بنے ۔ اس ترتیب پر کچھ احباب کا اشکال ہے ۔ کیا یہ ترتیب اختیارکرناشرعاًدرست ہے؟ اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ نمازِ جمعہ کے وقت کے بارے میں اصل استحبابی حکم یہ ہے کہ زوال کے بعدجلدی پڑھاجائے، یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے ا ور اسی پر صحابہ کرام بشمول حضرات خلفاء راشدین (رضی اللہ عنہم )کا عمل رہا ہے ۔نیز دونوں اذانوں کے درمیان طویل وقفہ بھی نہیں ہو نا چاہئے ،چنانچہ جب حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ)کے زمانے میں اذانِ اول شروع ہوئی تو اس اذانِ اول اور خطبے کے درمیان زیادہ وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ جمعہ کی نماز زوال کے بعد تاخیر سے ادا کر نا اگرچہ فی نفسہٖ جائز ہے ،گناہ نہیں ؛لیکن چند وجوہات کی بنا ء پر خلاف اولیٰ ہے:
نمبر1۔ رسول اللہﷺ اور صحابہ(رضی اللہ عنہم ) کے عمل کے خلاف ہے ۔
نمبر 2۔ جب جمعہ کی نماز دیر سے ادا کی جائے اور اذانِ اول کافی پہلے دی جائے تو دونوں اذانوں کے درمیان لامحالہ طویل وقفہ ہو جائے گا۔
نمبر 3۔ دونوں اذانوں کے درمیان وقفہ زیادہ ہو نے کی وجہ سے عام طور پر اذانِ اول کے بعد لوگ سعی الی الجمعہ کا اہتمام نہیں کرتے ،جس کی وجہ سے ترکِ سعی کے گناہ میں بھی مبتلاء ہوں گے ۔
لہٰذا افضل طریقہ یہ ہے کہ تقریر، زوال سے پہلے کی جائے اور زوال کے متصل بعد اذانِ اول ہواور دس پندرہ منٹ کے بعد اذانِ ثانی ،خطبہ اور نماز ہو۔یا زوال کے فوراً بعد پہلی اذان دی جائے ،اس کے بعد بیس پچیس منٹ کا بیان ہو ، پھر سنتیں ،اذانِ ثانی ، خطبہ اور نماز جمعہ ہو ۔ ان دوصورتوں میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرنا چاہئے اور اس کی ترغیب بھی دینی چاہئے۔لیکن اگرکسی وجہ(مثلاًزوال کے بعد جلدی جمعہ پڑھنے کی صورت میں لوگوں کا جمعہ فوت ہونے کا اندیشہ وغیرہ) سےنمازِ جمعہ کی ادائیگی میں تاخیر کی جائے ، تو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ پہلی اذان زوال کے فورا ًبعد نہ دی جائے ، بلکہ تقریر کے بعد پہلی اذان ہواورسنتوں کے مختصر وقفہ کے بعد دوسری اذان اور خطبہ ہو ۔تاکہ دونوں اذانوں کے درمیان طویل وقفہ بھی نہ ہو اور ترک سعی کے گناہ سے بھی بچا جا سکے۔
تاہم واضح رہے کہ یہ جو طریقہ آج کل کئی معروف اداروں اور مساجد میں رائج ہو رہا ہے اور مفید بھی ہے۔ اس پر عمل شروع کرنے سے پہلے لوگوں کو مسئلہ بتا کر ذہنی طور پر تیار کر لیا جائے تاکہ وقت پر لوگوں کو تشویش اور کسی قسم کا اشکال وانتشار نہ ہو ۔
قال الله تعالى: [الجمعة: 9]
يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلٰى ذِكْرِ اللّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ط ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل(م:256ھ)(2/7)دارطوق النجاة
عن أنس بن مالك رضي الله عنه: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الجمعة حين تميل الشمس»۔عن أنس بن مالك، قال: كنا نبكر بالجمعة ونقيل بعد الجمعة»
المصنف لأبي بكر عبد الرزاق بن همام(م: 211ھ)(3/ 175)المجلس العلمي
عن عطاء قال: «بلغني أن عثمان، كان يجمع ثم يقيل الناس بعد الصلاة»۔ عن يوسف بن ماهك قال: قدم معاذ بن جبل من الشام فوجد أهل مكة يصلون الجمعة في الحجر، «فنهرهم أن يصلوها حتى تفيء الكعبة من وجهها، وذلك الزوال»۔ عن أبي رزين قال:” كنا نجمع مع علي بن أبي طالب، ثم ننصرف فيكون الفيء أحيانا، وأحيانا لا يكون لا نراه يقول: نراه أحيانا، وأحيانا لا نراه”  عن زيد بن وهب قال:«كنا نجمع مع ابن مسعود ثم نرجع فنقيل» عن محمد بن كعب قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بنا الجمعة إذا سقط أدنى الفيء
المصنف لأبي بكر بن أبي شيبة(م: 235ھ)(1/444)مكتبة الرشد
حدثنا هشيم، قال: أخبرنا محمد بن سعد الأنصاري، عن أبيه، قال: «كنا نجمع مع عثمان بن عفان ثم نرجع فنقيل۔ عثمان بن عبد الرحمن، أنه سمع أنس بن مالك، يقول: «كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الجمعة إذا مالت الشمس» عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله، قال: «كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الجمعة، ثم نرجع فنريح نواضحنا». قال حسن: فقلت لجعفر: وأي ساعة تيك؟ قال: زوال الشمس»
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088ھ)(1/ 367)سعيد
(وجمعة كظهر أصلا واستحبابا) في الزمانين؛ لأنها خلفه۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)(1/ 367)سعيد
(قوله:أصلا) أي من جهة أصل وقت الجواز، وما وقع في آخره من الخلاف .(قوله واستحبابا في الزمانين) أي الشتاء والصيف ح، لكن جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يسن لها الإبراد. وفي جامع الفتاوى لقارئ الهداية: قيل إنه مشروع؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر وتقوم مقامه، وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم، فتأخيرها مفض إلى الحرج ولا كذلك الظهر وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس