بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہرکی اجازت کےبغیربیوی کےلئےعمرہ پر جانا کیساہے؟

سوال

میاں بیوی کے درمیان کچھ با توں پر گھریلو نا چاقی ہوئی شوہر نے اپنی بیوی سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ اپنے بھائیوں سے مجھے مالی اور مادی نفع پہنچاؤ،اور پھر گھریلو نا چا قی بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ عدا لت میں مقدمہ ہوگیا لڑکی والے یہ چاہ رہے ہیں کہ آپس میں صلح ہوجائے ،لیکن شوہر کی جا نب سے ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اور نا حق ہر جانے کے مطالبے کی وجہ سے معاملہ حل نہیں ہو رہا ،اور خاتون بدستور اپنے میکے میں زندگی گذار رہی ہے ۔واضح رہے کہ شوہر نے ابھی تک طلاق بھی نہیں دی،اب وہ خاتون اپنے بھائی کے ساتھ عمرہ پر جانا چاہتی ہے آیا اس صورت میں عورت عمرہ پر جاسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرچہ شوہر کے مطالبات درست نہیں ، اس پرلازم ہے کہ وہ ناجائز مطالبات چھوڑ دے اوربلاوجہ ناچاقی کو طول دینے کی بجائے باہمی صلح کا راستہ اختیار کرے البتہ بیوی چونکہ تاحال شوہر کے نکاح میں ہے اس لئے اس کی اجازت کے بغیروہ عمرہ پر نہ جائے۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088ھ)(2/ 465)سعید
وليس لزوجها منعها عن حجة الإسلام۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدین،الشامي(م:1252ھ)سعيد
(قوله وليس لزوجها منعها) أي إذا كان معها محرم وإلا فله منعها كما يمنعها عن غير حجة الإسلام، ولو واجبة بصنعها كالمنذورة، والتي أحرمت بها ففاتتها وتحللت منها بعمرة فلا تقضيها إلا بإذنه وكذا لو دخلت مكة بعد مجاوزة الميقات غير محرمة لأن حق الزوج لا تقدر على منعه بفعلها بل بإيجاب الله تعالى في حجة الإسلام رحمتي۔
حاشية الطحطاوي،أحمد بن محمد الطحطاوي(م:1231 ھ)(ص: 728)دارالكتب العلمية
وليس لزوجہا منعہا عن حجة الإسلام ولو حجت بلا محرم جاز مع الكراہة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس