بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد سے باہر نماز پڑھنے پر اتصال صفوف کا حکم

سوال

ہما ری مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے مسجد کی عمارت سے باہر بھی صفیں بنائی جاتی ہیں ،ان صفوں کو بچھانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے یا ویسے بھی بعد میں آنے والے لوگ خود سے صفیں بچھا لیتے ہیں، کچھ عرصہ پہلے کسی عالم نے بتایا کہ مسجد کی عمارت سے باہر اگر صفیں بچھائی جائیں تو ان کا اتصال مسجد کے اندر موجود صفوں سے ہونا ضروری ہے ۔
اس اتصال کی شرقًا، غربًا ، شمالًا، جنوبًا ،کیفیت اور کم ازکم یا زیادہ سے زیادہ حد کیا ہوتی ہے؟کیا بغیر اتصال پڑھی گئی نمازوں کو دہرانا واجب ہے یانہیں؟۔
کیا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان صفوں کے اتصال کی لازمی طور پر پابندی کرائے؟۔
مسجد انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے جن لوگوں کی نمازیں خراب ہوئیں ان نمازوں کی درست گی کاطریقہ کار کیا ہے؟

جواب

نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے جونمازی مسجد سے باہر نماز اداکرتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ ان کی صفیں مسجد کی صفوں سے متصل ہوں البتہ یہ بات واضح رہے کہ ہر ہر صف کا مسجد سے متصل ہونا ضروری نہیں بلکہ اگرمسجد کی کسی ایک جانب سے(مشرق، شمال اور جنوب میں سے کسی بھی جہت سے) صفیں مسجد کی صفوں سے ملی ہوئی ہیں اور نمازیوں اور مسجد کے درمیان دوصفوں سے کم فاصلہ ہے اور باقی اطراف کی صفیں ان صفوں سے ملی ہوئی ہیں تو ان سب لوگوں کی نماز درست ہوجائے گی ۔لہذا اس طریقے کے مطابق اتصال قائم کرکے اداکی گئیں نمازیں درست ہوگئیں اور جن نمازیوں نے مذکورہ طریقے پر اتصال قائم کئے بغیر نمازیں اداکی ہیں ان کی نمازیں ادانہیں ہوئیں نیز واضح رہے کہ باہر نماز اداکرنے والے نمازی خود اتصال قائم کرنے کے ذمہ دار ہیں انتظامیہ ذمہ دار نہیں ، ہاں اگر انتظامیہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ تھی تو اس کی تفصیل لکھ کردوبارہ حکم معلوم کرلیں۔
مراقي الفلاح، حسن بن عمارالحنفي(م:1069ھ)(1 / 111)المكتبة العصرية
والمانع في الصلاة فاصل يسع فيه صفين على المفتى به… وعلى هذا الاقتداء في الأماكن المتصلة بالمسجد الحرام وأبوابها من خارجه صحيح إذا لم يشتبه حال الإمام عليهم بسماع أو رؤية ولم يتخلل إلا الجدار كما ذكره شمس الأئمة فيمن صلى على سطح بيته المتصل بالمسجد أو في منزله بجنب المسجد وبينه وبين المسجد حائط مقتديا بإمام في المسجد وهو يسمع التكبير من الإمام أو من المكبر تجوز صلاته كذا في الجنيس والمزيد۔
الفتاوى الهندية،نظام الدين البلخي(1 / 88)دارالفكر
ويجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإن كان طريق عام ولكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد، كذا في التتارخانية ناقلا عن الحجة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس