بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امام ہال کےدروازےمیں کھڑاہواورمقتدی سب صحن میں، اس طرح نمازکاکیاحکم ہے؟

سوال

مسجدکاہال ہےاوراس کےسامنےمسجدکاصحن ہے ،ہال اورصحن دونوں حدودِمسجدمیں داخل ہیں امام ہال کےدروازےمیں ہےاورمقتدی سب صحن میں اس طرح نمازکاکیاحکم ہے،نمازہوگی یانہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں نماز تو اداہوجائے گی ، لیکن بلاضرورت امام کادروازے میں کھڑا ہونا مکروہ اورخلافِ اولیٰ ہے،اس لئے بہتریہ ہے کہ امام دروازے سے ذراباہر ہوکر کھڑاہو۔
فتح القدیر،العلامة ابن الهمام(م: 861هـ)(1/ 356)دارالفكر
الأصح ماروي عن أبي حنيفة أنه قال:أكره للإمام أن يقوم بين الساريتين أو زاوية أوناحية المسجدأوإلى سارية لأنه بخلاف عمل الأمة۔
  امدادالاحکام،مولاناظفراحمدعثمانیؒ(م:1394)(1/524)دارالعلوم کراچی
“اس سے معلوم ہواکہ مختاروجہ کراہت کی ،تشبیہ وامتیازہے،اوراس میں اندرونی محراب اوردروازےبرابرہیں،لہذامسجدکےدرمیں کھڑاہونابھی مکروہ ہے”

          وکفا یت المفتی ،مفتی کفایت اللہ دہلویؒ(م:1372ھ) (4/412)ادارۃ الفاروق کراچی

 “محراب اصل تووہی ہےجوديوارِقبلہ میں ہوتی ہے،لیکن اس کاحکم ان دروں پربھی جوباہرکےدروازوں میں بصورت محراب بنائے جاتےہیں ،بعض فقہاء نےعائدکیاہے،اس لئےاحتیاط یہ کہ امام ان دروں کےباہرکھڑاہو،تاکہ کسی قسم کاشبہ اورشک باقی نہ رہے،لیکن اگر امام در میں بھی کھڑاہوجائےتولڑنےجھگڑنےکاموقع نہیں ہے،کیونکہ زیادہ سےزیادہ اولیٰ اورخلاف اولیٰ کااختلاف ہے،اورلڑائی جھگڑاحرام ہے”۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس