بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بريلوی،مماتی،غيرمقلد امام كی اقتداء

سوال

اکثرتبلیغی جماعت والوں کی تشکیل بریلویوں کی مساجدمیں ہوتی ہےاوریہ حضرات وہاں جاکر بریلوی امام کی اقتداء میں نمازپڑھتےہیں، حالانکہ فتاوی محمودیہ ،مفتی محمودحسنؒ گنگوہی(6/261،باب الامامۃ،ط:فاروقیہ) میں اوراحسن الفتاوی (10/32) اور خیرالفتاوی،مفتی خیرمحمدجالندھریؒ(2/326،باب مایتعلق بالامامۃ والجماعۃ،ط:امدادیہ) میں لکھاہواہےکہ بریلوی امام کےپیچھےنمازپڑھنامکروہ تحریمی اورواجب الاعادہ ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ تبلیغی جماعت والوں کابریلوی امام کی اقتداءمیں نماز پڑھناجائزہےیانہیں ؟ اگرجائزہےتوکیاجس مسلک کی مسجدمیں بھی تشکیل ہوگی تواس امام کی اقتداء میں نمازپڑھناجائزہوگایانہیں ،مثلاً:بریلوی ،مماتی اورغیرمقلدوغیرہ۔اگران سب کی اقتداءمیں نمازپڑھنادرست نہیں توجواسےدرست کہے،اس کےمتعلق کیاحکم ہے؟

جواب

الف۔۔۔بريلوی حضرات کے عقائد عام طور پرمشرکانہ نہیں ہوتے، کیونکہ جن عقائد میں وہ اہل السنت والجماعت سے ہٹے ہوئے ہیں ان میں وہ تاویل کرتے ہیں اوربالکل اللہ تعالیٰ کی طرح حضورﷺکوہرجگہ حاضر ناظر،مختار کل اور عالم الغیب نہیں مانتے بلکہ ذاتی اور عطائی کا فرق کرتے ہیں اس لئے علماء نے انہیں کافرنہیں کہاہے بلکہ وہ بدعتی اور فاسق ہیں(ملاحظہ فرمائیں فتاوی دارالعلوم دیوبند،مفتی عزیزالرحمن (3/247)فصل ثالث:کس کی امامت درست ہےاورکس کی نہیں’’امداد المفتین ،مفتی محمدشفیع،ط:دارالاشاعت،ص:138‘‘اورفتاوی دارالعلوم کراچی یعنی امداد السائلین،مفتی محمدشفیع صاحب ؒ ص241،ط:ادارۃ المعارف کراچی)اس لئے انہیں اپنے اختیار سے امام بنانا مکروہ ِ تحریمی اور ناجائز ہے، اور بااختیار آدمی پر بدعتی امام کوامامت سے ہٹانالازم ہے۔ البتہ اگر اسے امام بنانے یاامامت سے ہٹانے میں کوئی اختیاریا عمل دخل نہ ہواور کسی صالح اور صحیح العقیدہ امام کے پیچھے دوسری جماعت بھی بہ آسانی میسر نہ ہوتو تنہانماز پڑھنے کے مقابلے میں بریلوی امام کے پیچھے ہی نماز پڑھناافضل ہے۔
مذکورہ تفصیل اس وقت ہے جب بریلوی امام کا عقیدہ کفر وشرک کی حد تک پہنچا ہوا نہ ہويااس کامذہب مشتبہ نہ ہو،لیکن اگر یہ بات یقین سے معلوم ہوجائے کہ اس کا عقیدہ کفر وشرک کی حد تک پہنچا ہوا ہےتو اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی، اوراگر اس كی عبارات یاگفتگو کی روشنی میں اس کا مذہب مشتبہ ہوگیاہو تواس کے پیچھے نمازاداکرنے کے حوالے سے احتیاط ضروری ہے ،تاہم واضح رہےکہ جن اکابرنے بریلوی امام کی اقتداءمیں اداکی گئی نمازکوواجب الاعادہ فرمایاہے وہ اسی صورت میں ہے جب اس کاعقیدہ کفریہ یامذہب مشتبہ ہوگیاہو۔
ب۔۔۔ غیر مقلد امام كے بارے میں اگر یقین یاظن غالب سے معلوم ہوکہ وہ حنفی مذہب کے مطابق نمازكے ارکان وشرائط کی رعایت کرتاہے تو اس کی اقتداء میں نمازاداکرنابلاکراہت درست ہے بشرطیکہ ائمہ کوبرابھلانہ کہتاہواورتقلیدکوشرک نہ سمجھتاہو۔وراگر یقین یاظن غالب ہو کہ وہ حنفی مذہب کے مطابق پاکی ناپاکی کےمسائل کا خیال نہیں رکھتا، مثلاً خون نکل کر بہہ جانے کی صورت میں نماز کے لئے وضو نہیں کرتا، اسی طرح دهاگہ کی جرابوں پر مسح کرتا ہےتواس کے پیچھے نماز ادا نہیں ہوتی اورجس كے بارے میں شک ہو،اس کی اقتداء مکروہ ہے؛ اس لئےعام حالات میں اس کے پیچھے نماز ادا کرنے سے بچنا چاہئے لیکن مجبوری کی صورت میں (جہاں قریب میں دوسری جماعت میسر نہ ہو)تنہا نماز پڑھنےکی بجائے جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے مذکور امام کی اقتدا میں نمازپڑھ لینا بہتر ہے ۔
ج۔۔۔جوامام حیات النبی ﷺ كابالكليہ انکار نہ کرتاہوبلكہ نفسِ حیات مبارکہ کاقائل ہو،البتہ اس کی مزید تفصیلات سے سکوت کرتا ہویا ان تفصیلات میں اہل سنت والجماعت علماء دیوبندسے اختلاف کرتا ہوتواس کی اقتداء میں نمازبلاكراہت ادا ہوجاتی ہےبشرطیکہ اس میں کراہت کی کوئی اور وجہ نہ ہو،البتہ جوامام حیات ِ مبارکہ کا بالکل منکر ہو اس کی اقتداء میں نماز اداکرنےمیں احتیاط ضروری ہے
الفتاوى الهندية(1/84)دارالفكر
وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا هكذا في التبيين والخلاصة وهو الصحيح هكذا في البدائع…ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي كذا في الخلاصة۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(1/563)سعيد
لكن في وترالبحر إن تيقن المراعاة لم يكره أو عدمها لم يصح إن شك كره۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(1/563)سعيد
(قوله إن تيقن المراعاة لم يكره إلخ) أي المراعاة في الفرائض من شروط وأركان في تلك الصلاة وإن لم يراع الواجبات والسنن كما هو ظاهر سياق كلام البحر… وفي رسالة [الاهتداء في الاقتداء] لمنلا علي القارئ: ذهب عامة مشايخنا إلى الجواز إذا كان يحتاط في موضع الخلاف وإلا فلا والمعنى أنه يجوز في المراعي بلا كراهة وفي غيره معها۔
الفكرالسامي في تاريخ الفقه الإسلامي،محمدبن الحسن الجعفري(م:1376هـ)(2/505)دارالكتب العلمية
اقتداء المذاهب بعضهم ببعض:كالحنفي يصلي وراء المالكي وبالعكس: قال خليل: وجاز اقتداء بأعمى، ومخالف في الفروع، وحكى حذاق  الأصوليين إجماع الأمة على هذا كما قال المازري، ونقله في التوضيح ونحوه في “إيضاح المسالك” للونشريسي، ونظر ابن عبد السلام فيه بوجود الخلاف عندالشافعية،وقد فصل السبكي منهم، فقال: يجوز الاقتداء بالمخالف ما لم يعلم أنه ترك واجبا في اعتقاد الإمام أو المأموم فتبطل.۔۔۔۔۔۔ سئل الشافعي: لم جاز أن يصلي المالكي وراء الشافعي وبالعكس وإن اختلفا في كثير من الفروع. ولم يجز أن يقلد مجتهد غيره في القبلة وفي الأواني، فلم يجب، وأجاب عز الدين بأن الجماعة مطلوبة للشارع، والمنع عن الاقتداء بالمخالف في الفروع يؤدي لتعطيل جماعات بخلاف الاختلافات في القبلة والأواني فهو نادر نقله شارح “اليواقيت الثمينة”على أن الشافعي يوجب البسملة والمالكي يقول بالكراهية، ولكن يقرؤها تحريا والحنفي يقول بعدم الوضوء من مس الذكر،  ولا يفعله تحريا وخروجا من الخلاف، ولا يوجب نية في الوضوء، والمالكي يجزم ببطلان صلاة من مس ذكره أوتوضأبغيرنية،والحنفي يقول ببطلان صلاة من احتجم ولم يتوضأ، والمالكي والشافعي يريان صحتها، والحنفي يشرب النبيذ، والمالكي والحنبلي يحدونه بشربه، بل الأول لا يقبل شهادة شاربه ولو حنفيا، وكان أبو حنيفة يقول بحليتها تسننا، ولا يشربها تزهدا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس