بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کیا جانور کے ہرحصے کو سات شرکاء میں تقسیم کرنا ضروری ہے؟

سوال

قربانی کےگوشت کی تقسیم کاکیاطریقہ ہوناچاہئے،کیاجانورکےہرہرعضوکوسات حصوں میں تقسیم کرناضروری ہے یا پھرتمام گوشت کوخلط ملط کرکےسات حصوں میں تقسیم کرناکافی ہے؟

جواب

حقیقت تویہ ہےکہ قربانی کےشرکاء میں سےہرشریک جانورکےہرہرعضومیں حصہ دارہوتاہے،لیکن ہرہرعضوکوسات حصوں میں تقسیم کرناکافی مشکل ہوتاہےاس وجہ سےشریعت نےہرہرعضوکوسات حصوں میں تقسیم کرنےکولازم نہیں قراردیا،بلکہ تقسیم میں برابری کافی ہے؛کیونکہ تقسیم کامعنی ہےمبادلہ :اس کامطلب یہ ہےکہ ہرشریک جب ایک حصہ لےتواس کےعوض شرکاءکواپناحصہ جودوسرےحصوں میں ہےدیدے.پس مبادلہ میں برابری ضروری ہے،لیکن اگرتمام حصوں میں پائے،کھر، چمڑا، پنڈلی،سروغیرہ رکھ دیاجائےتواندازےسےتقسیم کرنابھی جائزہے.
رد المحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(6/ 317)سعيد
 (قوله ويقسم اللحم)۔۔۔(قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة، وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى۔ الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام،محمدبن فرامرز،ملا خسرو(م: 885هـ)(1/ 267)دار إحياء الكتب العربية
(ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه من أكارعه أو جلده) أي يكون في كل جانب شيء من اللحم ومن الأكارع أو يكون في كل جانب شيء من اللحم وبعض الجلد أو يكون في جانب لحم وأكارع وفي آخر لحم وجلد فحينئذ يجوز صرفا للجنس إلى خلاف الجنس۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس