بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیٹےکااپنی والدہ کی طرف سےقربانی کرناجبکہ دونوں پرقربانی واجب نہ ہو

سوال

میرےاوپرقربانی واجب نہیں ہے۔اپنی والدہ صاحبہ کی طرف سےقربانی کےلئےایک بکراخریداہے۔واضح رہےکہ میری والدہ صاحبہ حیات ہیں اوروہ بھی صاحب نصاب نہیں ہیں۔توشرعی طورپران کی طرف سےقربانی کاکیاطریقہ ہوگا؟

جواب

مذکورہ صورت میں قربانی کےجائزہونےکی صورت یہ ہےکہ آپ اپنابکرا والدہ صاحبہ کوہبہ(گفٹ)کریں۔وہ اس پرقبضہ کرکےپھرقربانی کریں یاکسی کےذمےلگادیں کہ وہ قربانی کرے (امدادالاحکام مولاناظفراحمدعثمانی ؒ(4/232)دارالعلوم کراچی)۔واضح رہےکہ اگرآپ کےپاس کچھ سوناموجودہواوراس کےساتھ کچھ نقدی،چاندی یاضرورت سےزائدسامان بھی موجودہو،جن کی مجموعی مالیت ساڑھےباون تولہ چاندی کےبرابرہوجائےتواس صورت میں آپ پراپنی طرف سےقربانی کرناشرعاًواجب ہوگا۔
الفتاوى الهندية (5/ 302)دارالفكر
 إذا ضحى بشاة نفسه عن غيره بأمر ذلك الغير أو بغير أمره لا تجوز؛ لأنه لا يمكن تجويز التضحية عن الغير إلا بإثبات الملك لذلك الغير في الشاة، ولن يثبت الملك له في الشاة إلا بالقبض۔
بدائع الصنائع علاء الدين الكاساني (م: 587هـ) (5/ 64)دارالكتب العلمية
ومنها الغنى لما روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط – عليه الصلاة والسلام – السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس