بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ماہواری خون عادت سےپہلےختم ہوجائےتونمازروزے کاحکم

سوال

ایک خاتون کی ماہانہ ناپاکی میں عادت سات ایام کی ہے ، گزشتہ جمعرات ۳۰ شعبان کو اس کا چھٹادن تھاکہ رات کو اس کی ماہواری کاخون رک گیا، اس نے اس خیال سے کہ ہوسکتاہے دوبارہ شروع ہوجائے، یکم رمضان بروزِ جمعہ کا روزہ بھی نہیں رکھااور فجرکی نمازبھی ادانہیں کی، دن کے وقت غسل کرکے اس نے بقیہ نمازیں اپنے اوقات میں اداکیں۔ اب معلوم یہ کرناہے کہ آیایکم رمضان کاروزہ اور فجرکی نمازاس کے ذمہ لازم ہوگئی تھی یانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت پر فجرکی نمازاداکرنا اوریکم رمضان کاروزہ رکھنافرض ہوگیا تھابلکہ یکم رمضان کی رات کوپاکی حاصل ہونے کی وجہ سے عشاء کی نماز بھی اس کے ذمہ لازم ہوگئی تھی ،لہٰذا اب اس پرلازم ہے کہ وہ عشاء اور فجرکی نمازوں اورجمعہ کے روزے کی قضاکرے۔
الفتاوى الهندية (1 / 39 )دارالفکر
لو انقطع دمها دون عادتها يكره قربانها وإن اغتسلت حتى تمضي عادتها وعليها أن تصلي وتصوم للاحتياط. هكذا في التبيين۔
 الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(1/ 294 )سعید
فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا۔
رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(1/ 294)سعید
(قوله لم يحل) أي الوطء وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب بحر (قوله وتغتسل وتصلي) أي في آخر الوقت المستحب، وتأخيره إليه واجب هنا أما في صورة الانقطاع لتمام العادة فإنه مستحب كما في النهاية والبدائع وغيرهما۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس