بدائع الصنائع،العلامة علاء الدين الكاساني(م:587ه) (10/462)دارالكتب العلمية
وأما العلامة في حالة الصغر فالمبال، لقوله عليه الصلاة والسلام «الخنثى من حيث يبول» ، فإن كان يبول من مبال الذكور فهو ذكر، وإن كان يبول من مبال النساء فهو أنثى ” وإن كان يبول منهما جميعا يحكم السبق؛ لأن سبق البول من أحدهما يدل على أنه هو المخرج الأصلي وأن الخروج من الآخر بطريق الانحراف عنه. وإن كان لا يسبق أحدهما الآخر فتوقف أبو حنيفة – رضي الله عنه -.وقال: هو خنثى مشكل، وهذا من كمال فقه أبي حنيفة – رضي الله عنه -؛ لأن التوقف عند عدم الدليل واجب۔
قربانی کے فضائل ومسائل، مفتی عبد الرؤف سکھروی(ص:63)
فقہ حنفی کی کتب میں سے بعض کتابوں مثلًا فتاوی عالمگیری، درِ مختار میں اور ہمارے اکابرؒ کے بعض فتاویٰ میں خنثیٰ جانور کی قربانی کو مطلقًا ناجائز لکھاہے، اور اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کا گوشت اچھی طرح نہیں پکتا، لیکن ہماری معلومات کے مطابق اب خنثیٰ جانورکے گوشت میں عمومًانہ پکنےکی بات نہیں پائی جاتی، بلکہ جس طرح دوسرے جانوروں کاگوشت پک جاتاہے اسی طرح خنثیٰ جانور کاگوشت بھی پک جاتاہے، نیز ہمارے علم کی حد تک تاجروں کے نزدیک بھی جانور کاخنثیٰ ہونا”عیب” شمار نہیں ہوتا بلکہ اس کی خریدوفروخت بھی دیگر جانوروں کی طرح معمول کے مطابق ہوتی ہے اور خنثیٰ ہونے کی وجہ سے ان کی قیمت میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا لہذا اب اس کی قربانی کو ناجائز نہیں کہا جائے گا بلکہ اس کی قربانی کی گنجائش ہوگی، جبکہ حضراتِ مالکیہ ؒ اور شافعیہ ؒ کی بعض عبارات میں بھی علامہ نوویؒ کے حوالے سے خنثیٰ جانور کی قربانی کاجواز مذکور ہے، بلکہ کتبِ شافعیہ میں مطلق جواز مذکور ہے، البتہ اگر کوئی احتیاط کرے اور خنثیٰ جانور کے بجائے کوئی اور نر یامادہ جانور ذبح کرلے تو بہترہے۔