بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی میت کے بارے میں علم نہ ہو کہ مسلم ہے یاغیرمسلم!

سوال

جواب

 

اگرکسی بستی یاشہرمیں میت پائی گئی نہ قاتل کاپتہ نہ مقتول کےورثاءکاتوصورت ِمذکورہ میں اس کےبعدچند سوالات جنم لیتےہیں مثلا:1۔مقتول مسلم ہےیاغیرمسلم اس کاتعین کیسےکیاجائیگا؟2۔اگروہ مسلم ہے  توکیاکیاجائیگاچونکہ ورثاءتو معلوم نہیں؟3۔اگرغیرمسلم تومسلمان کیسےاس معاملہ کورفع کرینگے ؟

تنقیح :    نمبر ۱۔صورتِ مسئولہ میں میت(لاش)جس بستی یاشہرسےملی ہےوہ بستی مسلمانوں کی ہے(اسلامی ملک کی ہے)یاغیرمسلموں کی؟  2۔معاملہ کورفع کرنےسےآپ کی مرادکیاہے؟

جواب تنقیح :     نمبر ۱۔ اسلامی ملک کی ہے۔

نمبر ۲۔ رفع ِمعاملہ سےمرادہےاس غیرمسلم کوکون اورکیسےدفنائےگایااس کویونہی پھینک دیاجائیگا۔

 

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ میت پرمسلمانوں کےاحکامات جاری ہونگےاوراسےشریعتِ اسلامیہ  کےمطابق غسل اورکفن دیاجائےگااورپھراس کی نمازِجنازہ اداکرکےاسےمسلمانوں کےقبرستان میں دفن کیا جائےگا، البتہ اگراس میں ایسی نشانی پائی جائےجس سےاس کےغیرمسلم ہونےکایقین یاظنّ ِ غالب ہوجائے(مثلاً اس کاختنہ نہ ہواہویاحصہ زیرِناف صاف نہ ہو)تواس صورت میں اس پرغیرمسلم کےاحکام جاری ہوں گےیعنی اسےغسل،نمازِجنازہ اورمسنون کفن کےبغیرکپڑےمیں لپیٹ کرغیرمسلموں کےقبرستان میں دفن کردیاجائےگا۔

بدائع الصنائع،العلامة علاء الدين  الكاساني(م:587هـ)(1/303)دارالكتب العلمية
ولو وجد ميت أو قتيل في دار الإسلام فإن كان عليه سيما المسلمين يغسل ويصلى عليه ويدفن في مقابر المسلمين، وهذا ظاهر، وإن لم يكن معه سيما المسلمين ففيه روايتان، والصحيح أنه يغسل ويصلى عليه ويدفن في مقابر المسلمين لحصول غلبة الظن بكونه مسلما بدلالة المكان، وهي دار الإسلام،… والحاصل أنه لا يشترط الجمع بين السيما ودليل المكان، بل يعمل بالسيما وحده بالإجماع، وهل يعمل بدليل المكان وحده؟ فيه روايتان، والصحيح أنه يعمل به لحصول غلبة الظن عنده۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088هـ)(2/200)سعيد
[فروع] لو لم يدر أمسلم أم كافر، ولا علامة فإن في دارنا غسل وصلي عليه وإلا لا۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (2/200) سعيد
(قوله فإن في دارنا إلخ) أفاد بذكر التفصيل في المكان بعد انتفاء العلامة أن العلامة مقدمة، وعند فقدها يعتبر المكان في الصحيح؛ لأنه يحصل به غلبة الظن كما في النهر عن البدائع. وفيها أن علامة المسلمين أربعة: الختان ،والخضاب، ولبس السواد، وحلق العانة اه. قلت: في زماننا لبس السواد لم يبق علامة للمسلمين۔

واللہ اعلم (فتوی نمبر43/2)

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس