بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قربانی کی کھال فروخت کرکےاس قیمت سے طلباءکی دعوت کرنا

سوال

ایک شخص اپنی قربانی کےجانور کی کھال بیچ کرحاصل ہونیوالی رقم سےطلباءکی دعوت کردےتو آیایہ کرناجائزہےیانہیں اگرجائزنہیں، جب اس نےکھال کی قیمت کی دعوت کردی تواب کیاکرے؟ واضح رہےکہ اس نےطلباء کواپنےگھربلاکردعوت کی۔  نیزطلباءکی کثرت کی وجہ سےیہ تمیزکرنابھی مشکل ہےکہ کون امیرہےاورکون غریب ہے،یعنی یہ معلوم نہیں ہوسکتاکہ آیاوہ سب غریب ہیں یاان میں کچھ مالداربھی ہیں۔

جواب

شخصِ مذکورپرلازم ہےکہ قربانی کی کھال کی قیمت کسی مستحق کومالک بناکردے،طلباءکی دعوت کردینےسےوہ شرعاًبری الذمّہ نہیں ہوگاکیونکہ قربانی کی کھال کوفروخت کردینےکےبعداس کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہےاورصدقہ کےاداہونےکےلئےمالک بناکردیناضروری ہے،محض دعوت کرنا  کافی نہیں ہے۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088هـ)(2/634)رشيدية
(صحت الاباحة) بشرط الشبع (في طعام الكفارات) سوى القتل (و) في (الفدية)…(دون الصدقات والعشر)۔
  الدر المختار(241)دار الكتب العلمية
(ويتصدق بجلدها أو يعمل منه نحو غربال وجراب) وقربة وسفرة ودلو (أو يبدله بما ينتفع به باقيا) كما مر (لا بمستهلك كخل ولحم ونحوه) كدراهم (فإن بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم تصدق بثمنه)۔
الفتاوى الهندية(5/301)دار الفكر
ولو باعها بالدراهم ليتصدق بها جاز؛ لأنه قربة كالتصدق، كذا في التبيين. وهكذا في الهداية والكافي۔
 عمدة الرعاية،العلامة محمد عبد الحي اللكنوي(م:1304هـ)(10/49)مركز العلماء العالمي
 ولو باعها بالدراهم ليتصدق بها جاز؛ لأنه قربة كالتصدق بالجلد واللحم، وقوله- صلى الله عليه وسلم-: ((من باع جلد أضحيته فلا أضحية له)) المستدرك وانظر في امداد الفتاوی،حكيم الامة اشرف علی التهانوی(م:1280ه)(3/487)سیّد احمد شہيد اکوڑہ خٹک۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس