الف نےب کوبطورِمضاربت کچھ رقم دی اورنفع کی شرحِ تقسیم کی کوئی بات نہیں ہوئی، سال پوراہونےپرب مضارب کہتاہےکہ اختتامِ سال پرہماراطریقہ کاریہ ہےکہ حساب بناکرکل مال کی زکوٰۃ+ امورِخیر کےلئےکچھ نکالتےہیں اوربعدہ نفع کی تقسیم ربُ المال کےلئے12آنےاورمضارب کےلئے 4آنےکےحساب سےکرتےہیں نیزدورانِ سال5صدیاہزارروپے 2ہزار روپےتک ذاتی اخراجات میں بھی استعمال ہوتےہیں جن کاحساب نہیں رکھاجاتا۔اس کےجواب میں ربُ المال کہتاہےکہ گزشتہ جوہوگیاوہ بھی اورآئندہ جوہواس کی بھی اجازت ہےتوکیایہ طریقہ کارشرعی طورپرصحیح ہے۔یہی صورت اگرمضارب اورربُ المال کےوکیل کےدرمیان ہوتووکیل،ربُ المال سےاجازت لئےبغیرمضارب کومذکورہ بالاطریقہ پرمضاربت کی اجازت دےسکتاہے؟
شرکت میں کاروباری اخراجات مالِ شرکت میں سےکئےجاتےہیں، لیکن ایسے ذاتی اخراجات جو گھریلو کاموں سےمتعلق ہیں ان کومشترکہ اخراجات میں شامل کرنےکی شرط لگانا ناجائزہے۔جس کی وجہ سے شرکت فاسدہوجائےگی۔لہٰذاسوال میں ذکر کردہ شرائط کےساتھ معاملہ کرنےسےگریزکریں۔مذکورہ معاملہ کےجوازکی صورت یہ ہے کہ ذاتی نوعیت کےاخراجات کوحساب میں لاکر خرچ کرنےوالےکےکھاتےمیں ہی ڈالیں، مشترکہ اخراجات میں شامل نہ کریں۔