بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جس جانور کے خصیے نکال لیے گئے ہوں اس کی قربانی کا حکم

سوال

 ایک صاحب  نے قربانی کےلئے صحیح سالم چھترا خرید ا بعدازاں اس کے کپورے خراب ہونا شروع ہو گئے جس کے لیے معالجین نے آپریشن تجویز کیا۔ چنانچہ آپریشن کرایا گیا اور کپورے نکال دیئے گئے ،اب وہ چھترا مکمل طور پر صحت یاب ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسے چھترے کی قربانی جائز ہے ؟

جواب

مذکورہ چھترے کا آپریشن کرکے اگر چہ ایک عضو نکال دیا گیا ہے لیکن چونکہ یہ عضو مقصود نہیں ہے اور اس سے قیمت میں بھی کمی واقع نہیں ہوتی اور جانور بھی صحت مند ہو جاتا ہے لہذا مذکورہ چھترے کی قربانی کرنا جائز ہے۔
إعلاء السنن،ظفر أحمد عثمانی(م:1394ھ)(16/7988)دارالفکر
أقول:الأحادیث نص فی جواز التضحیۃ بالخصی ،والأمر مجمع علیہ،والمعنی فیہ أن الخصاء والوجاء لا یحدث فیہ عیبا ،بل یزید لحما سمنا و طیبا۔
                        تبيين الحقائق،فخر الدين الزيلعي (م:743ھ)(6/479)بیروت
ويضحي بالخصي وعن أبي حنيفة هو أولى؛ لأن لحمه أطيب، وقد صح أنه – صلى الله عليه وسلم – «ضحى بكبشين أملحين موجوءين»…..والموجوء المخصي الوجاء هو أن يضرب عروق الخصية بشيء۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،عبد الرحمن بن محمد(م:1078ھ)(2/ 519)مکتبۃ المنار
وتجوز الجماءوالخصي وعن الإمام أن الخصي أولى لأن لحمه ألذ وأطيب۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس