بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور دھر پڑھنے کا حکم

سوال

جمعہ کے دن نماز فجر میں سورت سجدہ اور سورت دھر کیوں پڑھی جاتی ہے ؟

جواب

جمعہ کے دن فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں سورت سجدہ اور دوسری رکعت میں سورت دھر پڑھنا خود آنحضرت ﷺکے پاکیزہ عمل اورمبارک سنت سے ثابت ہے؛ اس لئے حضورﷺ کے مبارک عمل کی برکت حاصل کرنے کی نیت سے اس عمل کو اختیار کرنا چاہئے جیسا کہ بہت سی مساجد میں کیا جاتا ہے ۔ البتہ اس کو واجب سمجھنا درست نہیں۔ نیز کبھی کبھار ان کے علاوہ کوئی دوسری سورت پڑھ لی جائے تاکہ اس کو فرض یا واجب نہ سمجھا جانے لگے۔
صحيح مسلم ،مسلم بن حجاج القشيري(م:261ه)(2/ 599)یادگار شیخ
عن أبي هريرة، ” أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الصبح، يوم الجمعة: بالم تنزيل في الركعة الأولى، وفي الثانية هل أتى على الإنسان حين من الدهر لم يكن شيئا مذكورا “۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري،محمود بن أحمد(م:855ھ)(6/ 185) دار إحياء التراث العربي
(عن أبي هريرة، ” أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الصبح، يوم الجمعة: بالم تنزيل في الركعة الأولى، وفي الثانية هل أتى على الإنسان حين من الدهر لم يكن شيئا مذكورا “) ذكر ما يستفاد منه: قال ابن بطال: ذهب أكثر العلماء إلى القول بهذا الحديث، روي ذلك عن علي وابن عباس، واستحبه النخعي وابن سيرين، وهو قول الكوفيين والشافعي وأحمد وإسحاق. وقالوا: هو سنة۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (1/ 544)ایچ۔ایم۔سعید
فيستحب أن يقرأ ذلك أحيانا تبركا بالمأثور، فإن لزوم الإيهام ينتفي بالترك أحيانا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس