بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نماز میں تکبیرِ انتقال کب شروع اور کب ختم کرنی چاہیے؟/ایک رکن سے دوسرے رکن جانے کا طریقہ/سجدہ سے اٹھتے ہوئے ہاتھ گھٹنے پر رکھے جائیں یا زمین پر

سوال

نماز میں ایک ہیئت سے دوسری ہیئت کی طرف منتقل ہونے کا صحیح طریقہ کیا ہے یعنی قیام سے رکوع کی طرف جانے کا طریقہ کیا ہو گا۔ پھر رکوع سے قومہ کی طرف اسی طرح قومہ سے سجدہ کی طرف، سجدہ سے جلسہ یا قیام کی طرف نیز یہ بھی واضح فرمائیں کہ قعدہ سے قیام کی طرف منتقل ہوتے وقت پہلے زمین پر ہاتھ رکھے جائے گے یا سیدھا ہا تھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر کھڑا ہو  جائیگا۔ اور تکبیراتِ انتقال کا وقت کیا ہے یعنی ایک ہیئت سے دوسری ہیئت کی طرف منتقل ہوتے وقت تکبیر کب شروع کرنی ہے اور کب ختم کرنی ہے؟

جواب

سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ ایک رکن سے دوسرے رکن کی جانب انتقال شروع کرنے کے ساتھ ہی تکبیر کہنا شروع کر دیں اور جیسے ہی دوسرے رکن میں پہنچ جائیں اور انتقال ختم ہو جائے تو تکبیر بھی ختم کردیں ۔   قیام سے رکوع کی جانب جانے کا طریقہ یہ ہے کہ قراءت ختم ہونے کے بعد” اللہ أکبر” کہتے ہوئے رکوع میں جائیں اسی طرح رکوع مکمل ہونے کے بعد “سمع اللہ لمن حمدہ”‎ کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جائیں البتہ مقتدی “سمع اللہ لمن حمدہ” نہ کہے ۔ سجدہ میں جانے کا طریقہ یہ ہے کہ” اللہ أکبر” کہتے ہوئے سجدہ میں جائے اور زمین پر سب سے پہلے گھٹنےرکھے، پھر ہاتھ رکھے اور پھر ناک اور پیشانی رکھے ۔ (دیکھئے”نمازیں سنت کے مطابق پڑھیں ص:17)
جب سجدہ سے فارغ ہو جائے تو” اللہ أکبر” کہتے ہوئے جلسہ کی طرف اٹھے، پہلے پیشانی اور پھر ناک اٹھائے اور پھر ہا تھ، اور سید ھا بیٹھ جائے۔ پھر “اللہ أکبر” کہتے ہوئے دوسرے سجدہ میں جائے۔ پہلے ہاتھ زمین پر رکھے پھر ناک اور پھر پیشانی دوسرے سجدہ سے فارغ ہونے کے بعد “اللہ أکبر” کہتے ہوئے قیام کے لئے اٹھے،پہلے پیشانی اور ناک زمین سے اٹھائے پھر ہاتھ اور پھر گھٹنے ، اٹھتے وقت دونوں ہاتھ زمین پر نہ رکھے بلکہ گھٹنوں  پر رکھے اور اگر کوئی عذر یا بیماری یابڑھاپا ہو تو زمین پرہاتھ رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(1/ 74)رشیدیۃ
فيكون ابتداء تكبيره عند أول الخرور والفراغ عند الاستواء للركوع كذا في المحيط۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(1/ 506)ایچ۔ایم۔سعید
يعتمد بيديه على ركبتيه عندنا وعنده على الأرض والثاني الجلسة الخفيفة. قال شمس الأئمة الحلواني: الخلاف في الأفضل حتى لو فعل كما هو مذهبنا لا بأس به عند الشافعي، ولو فعل كما هو مذهبه لا بأس به عندنا كذا في المحيط۔
   المحيط البرهاني،محمود بن احمد(م:616ھ)(1/ 359)دار الكتب العلمية
ثم إذا فرغ من القراءة يركع، وقد ذكرنا بعض مسائل الركوع في الفصل المتقدم، قال محمد وإذا أراد أن يركع يكبر، قال بعض مشايخنا ظاهر ما ذكر محمد يدل على أن تكبير الركوع يؤتى به في حال القيام، فإنه قال: وإذا أراد أن يركع يكبّر، وقال بعضهم: يكبّر عند الخرور للركوع، فيكون ابتداء تكبيره عند أول الخرور والفراغ عند الاستواء للركوع؛ لأن هذا تكبير الانتقال، ويؤتى بجميع الانتقال۔
                        بدائع الصنائع ،علاء الدین الکاسانی(م:587ھ) (1/484،489)علمية
وإذا فرغ من القراءة ينحط للركوع ويكبر مع الانحطاط ولا يرفع يديه ، أما التكبير عند الانتقال من القيام إلى الركوع فسنة عند عامة العلماء، وقال بعضهم: لا يكبر حال ما ركع وإنما يكبر حال ما يرفع رأسه من الركوع، والصحيح قول العامة لما روي عن علي وابن مسعود وأبي موسى الأشعري وغيرهم أن النبي – صلى الله عليه وسلم – «كان يكبر عند كل خفض ورفع» . . . وإذا اطمأن راكعا رفع رأسه وقال: سمع الله لمن حمده ولم يرفع يديه فيحتاج فيه إلى بيان المفروض والمسنون۔
                        بدائع الصنائع،علاء الدین الکاسانی(م:587ھ) (1/491)علمية
وإذا اطمأن قائما ينحط للسجود؛ لأنه فرغ من الركوع وأتى به على وجه التمام فيلزمه الانتقال إلى ركن آخر وهو السجود إذ الانتقال من ركن إلى ركن فرض؛ لأنه وسيلة إلى الركن لما مر، ومن سنن الانتقال أن يكبر مع الانحطاط ولا يرفع يديه؛ لما تقدم، ومنها أن يضع ركبتيه على الأرض ثم يديه وهذا عندنا، وقال مالك والشافعي: يضع يديه أولا واحتجا بما روي أن النبي – صلى الله عليه وسلم – «نهى عن بروك الجمل في الصلاة» وهو أن يضع ركبتيه أولا، ولنا عين هذا الحديث؛ لأن الجمل يضع يديه أولا وروي عن عمر وابن مسعود – رضي الله عنهما – مثل قولنا، وهذا إذا كان الرجل حافيا يمكنه ذلك فإن كان ذا خف لا يمكنه وضع الركبتين قبل اليدين فإنه يضع يديه أولا ويقدم اليمنى على اليسرى، ومنها أن يضع جبهته ثم أنفه، وقال بعضهم: أنفه ثم جبهته۔
                        بدائع الصنائع،علاء الدین الکاسانی(م:587ھ)(1/ 496)علمية
ويعتمد بيديه على ركبتيه لا على الأرض ويرفع يديه قبل ركبتيه وعند الشافعي يعتمد بيديه على الأرض ويرفع ركبتيه قبل يديه؛ لما روينا من حديث مالك بن الحويرث ولنا ما روي عن علي أنه قال: من السنة في الصلاة المكتوبة أن لا يعتمد بيديه على الأرض إلا أن يكون شيخا كبيرا وبه تبين أن النبي – صلى الله عليه وسلم – إنما فعل ذلك في حالة العذر، ثم يفعل ذلك في الركعة الثانية مثل ما فعل في الأولى۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

1

/

70

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس