نماز میں ایک ہیئت سے دوسری ہیئت کی طرف منتقل ہونے کا صحیح طریقہ کیا ہے یعنی قیام سے رکوع کی طرف جانے کا طریقہ کیا ہو گا۔ پھر رکوع سے قومہ کی طرف اسی طرح قومہ سے سجدہ کی طرف، سجدہ سے جلسہ یا قیام کی طرف نیز یہ بھی واضح فرمائیں کہ قعدہ سے قیام کی طرف منتقل ہوتے وقت پہلے زمین پر ہاتھ رکھے جائے گے یا سیدھا ہا تھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر کھڑا ہو جائیگا۔ اور تکبیراتِ انتقال کا وقت کیا ہے یعنی ایک ہیئت سے دوسری ہیئت کی طرف منتقل ہوتے وقت تکبیر کب شروع کرنی ہے اور کب ختم کرنی ہے؟
سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ ایک رکن سے دوسرے رکن کی جانب انتقال شروع کرنے کے ساتھ ہی تکبیر کہنا شروع کر دیں اور جیسے ہی دوسرے رکن میں پہنچ جائیں اور انتقال ختم ہو جائے تو تکبیر بھی ختم کردیں ۔ قیام سے رکوع کی جانب جانے کا طریقہ یہ ہے کہ قراءت ختم ہونے کے بعد” اللہ أکبر” کہتے ہوئے رکوع میں جائیں اسی طرح رکوع مکمل ہونے کے بعد “سمع اللہ لمن حمدہ” کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جائیں البتہ مقتدی “سمع اللہ لمن حمدہ” نہ کہے ۔ سجدہ میں جانے کا طریقہ یہ ہے کہ” اللہ أکبر” کہتے ہوئے سجدہ میں جائے اور زمین پر سب سے پہلے گھٹنےرکھے، پھر ہاتھ رکھے اور پھر ناک اور پیشانی رکھے ۔ (دیکھئے”نمازیں سنت کے مطابق پڑھیں ص:17)
جب سجدہ سے فارغ ہو جائے تو” اللہ أکبر” کہتے ہوئے جلسہ کی طرف اٹھے، پہلے پیشانی اور پھر ناک اٹھائے اور پھر ہا تھ، اور سید ھا بیٹھ جائے۔ پھر “اللہ أکبر” کہتے ہوئے دوسرے سجدہ میں جائے۔ پہلے ہاتھ زمین پر رکھے پھر ناک اور پھر پیشانی دوسرے سجدہ سے فارغ ہونے کے بعد “اللہ أکبر” کہتے ہوئے قیام کے لئے اٹھے،پہلے پیشانی اور ناک زمین سے اٹھائے پھر ہاتھ اور پھر گھٹنے ، اٹھتے وقت دونوں ہاتھ زمین پر نہ رکھے بلکہ گھٹنوں پر رکھے اور اگر کوئی عذر یا بیماری یابڑھاپا ہو تو زمین پرہاتھ رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔