بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پہلے دو رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں سورت بھول جانے کا حکم

سوال

جو شخص بھول کر فرض نماز کی پہلی رکعت  میں قرأت چھوڑ دےاور تنہا نماز پڑھے پھر  تیسری رکعت میں تلاوت کرے پھر نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرےاس طرح کرنے سے نماز ہوجائےگی یا نہیں ؟۔

جواب

اگرنماز پڑھنے والے شخص سے پہلی دو رکعتوں میں سورت ملانا چھوٹ گئی تھی  تو اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ آخری رکعتوں میں سورت ملائے اور سجدہ سہو کرے۔
:الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (1/ 536)ایچ۔ایم۔سعید
(ولو ترك سورة أوليي العشاء) مثلا ولو عمدا (قرأها وجوبا) وقيل ندبا (مع الفاتحة جهرا في الأخريين)۔
:رد المحتار ، ابن عابدین الشامی(م:1252 ھ)(1/ 536)ایچ۔ایم۔سعید
زاده ليعم ما لو تركها في ركعة واحدة، وهل يأتي بها في الثالثة أو الرابعة؟ يحرر، وليعم غير العشاء كالمغرب فإنه لو تركها في إحدى أولييها يأتي بها في الثالثة، ولو فيهما معا أتى في الثالثة بفاتحة وسورة وفاتت الأخرى، ويسجد للسهو لو ساهيا؛ وليعم الرباعية السرية فإنه يأتي بها في الأخريين أيضا أفاده ط، وإنما خص المصنف العشاء بالذكر لمكان قوله جهرا في الأخريين لا للاحتراز عن غيره، فلذا أشار الشارح إلى التعميم فافهم۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

1

/

17

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس